دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
میں انجام پائی۔ آپ حدیث کی جس کتاب کو بھی دیکھیں، اس میں کتاب الجہاد جیسے ابواب لازمی طور پر نظر آئیں گے۔ مگر حدیث کی کوئی بھی قابل ذکر کتاب ایسی نہیں جس میں دعوت و تبلیغ کا باب قائم کیا گیا ہو اور اس کے تحت دعوت الی اللہ سے متعلق حدیثیں یکجا کی گئی ہوں۔ اسی طرح فقہ کی صورت میں اسلامی قانون کا عظیم الشان ذخیرہ تیار ہوا۔ مگر دوبارہ ہم دیکھتے ہیں کہ فقہ کی کتابوں میں جہاد اور اس سے متعلق ابواب تو بالا التزام پائے جاتے ہیں مگر دعوت حق اور انداز و تبشیر کے ابواب کسی فقہ کی کتاب میں موجود نہیں۔ اسی طرح دین کی تشریع اور اس کی حکمتوں کے بیان پر پچھلی صدیوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً عزالدین بن عبد السلام، الغزالی، ابن تیمیہ، ابن قیم اور ان کے جیسے دوسرے لوگوں نے ہزاروں کتابیں لکھیں مگر اسلام کے وسیع اور قیمتی کتب خانہ میں کوئی بھی قابل ذکر کتاب نہیں جو حقیقی معنی میں دعوت الی اللہ کے موضوع پر لکھی گئی ہو۔ حتی کہ دورِ آخریں علم اسرار شریعت پر لکھی جانے والی جامع ترین کتاب حجتہ اللہ البالغہ (شاہ ولی اللہ دہلوی) میں ہر قسم کے ابواب موجود ہیں ، مگر اس میں دعوت الی اللہ کا باب موجود نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پچھلی صدیوں میں نفس دعوت اسلام معدوم ہوگئی ہو۔ جو چیز معدوم ہوئی وہ شعور دعوت ہے نہ کہ عمل دعوت۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے دین کی دعوت اور اس کی اشاعت کا کام عملی طور پر پچھلے پورے چودہ سو سال میں کسی ایک دن کے وقفے کے بغیر مسلسل جاری رہا ہے۔ مگر یہ زیادہ تر اسلام کی اپنی طاقت کے زور پر اپنے آپ ہوتا رہا ہے نہ کہ کسی دعوتی شعور یا تبلیغی منصوبہ بندی کے تحت۔ پچھلی صدیوں میں دعوتی شعور، اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے ضرور غیر موجود رہا ہے۔ مگر دعوت کا عمل بطور واقعہ پوری تاریخ میں کبھی ایک دن کے لئے بھی غیر موجود نہیں رہا۔ میری معلومات کے مطابق ، دورِ صحابہ کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز (۱۰۱ - ۶۲ھ) آخری شخص تھے جن کے یہاں دعوت کا شعور اپنی حقیقی اور کامل صورت میں پایا جاتا ہے۔ مشہور واقعہ ہے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے عامل نے شکایت کی کہ لوگ کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اس بنا پر یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ خراج کی رقم تشویش ناک حد تک گھٹ جائے اور بیت المال کا خزانہ خالی ہو جائے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ سن کر فرمایا: ويحك ان محمدًا ابعث هادياً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader