دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
ولم يبعث جابيا د تمہارا ابو ہبہ، محمد ہادی بنا کر بھیجے گئے تھے، وہ ٹیکس وصول کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ) حضرت عمر بن عبد العزیز کے اس قول میں جو شعور دعوت پایا جاتا ہے ، اس کا اعادہ اسلام کی بعد کی تاریخ میں دو بارہ نہ ہو سکا۔ راقم الحروف نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کے درمیان لال قلعہ کی دیواریں حائل ہیں۔ یہ بلا شبہ موجودہ زمانہ کی تلخ ترین حقیقت ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اسلام اور موجودہ مسلمانوں کے درمیان فتوحات اور حکمرانی کی تاریخ ایک آڑ بن کر کھڑی ہو گئی ہے۔ اس آڑ کی وجہ سے موجودہ زمانہ کے مسلمان اسلام کو اس کے اصل روپ میں دیکھ نہیں پاتے ۔ اور اسلام کا جو سب سے زیادہ اہم پہلو مسلمانوں کی نظر سے اوجھل ہوا ہے ، وہ دعوت الی اللہ ہے۔ اسلام کی اصل تسخیری قوت بلا شبہ دعوت ہے۔ دعوت ہی وہ اصل عمل ہے جس پر فتح وغلبہ کی وہ تمام نصرتیں نازل ہوتی ہیں جن کا قرآن میں واضح طور پر وعدہ کیا گیا ہے۔ مگر اسی سب سے بڑی بات کو موجودہ مسلمان سب سے زیادہ بھولے ہوئے ہیں۔ اس معاملہ میں ان کی غفلت یہاں تک پہنچی ہے کہ وہ دوسرے دوسرے کام کرتے ہیں اور ان کو " دعوت " کا نام دیدیتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا یہ فعل انہیں مائنس مارکنگ (Minus marking) کا مستحق بناتا ہے نہ کہ انعام وتحسین کا۔ دوبارہ دریافت کی ضرورت میں نے ایک عربی جریدہ میں ایک مضمون پڑھا جس کا عنوان تھا : الدعوة الى اللہ ۔ اس مضمون میں دعوت کے بارہ میں چوٹی کے عرب علماء کے خیالات ظاہر کئے گئے تھے۔ مضمون نگار نے شروع میں لکھا تھا کہ اس سلسلہ میں سب سے پہلے ضروری ہے کہ دعوت کا نشانہ مقرر کیا جائے۔ دعوت کا نشانہ کیا ہے۔ کیا اس سے مراد فرد کی اصلاح ہے۔ کیا اس سے مراد معاشرہ اور خاندان ان کی اصلاح ہے۔ کیا اس کا مطلب حکومت کی اصلاح ہے۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام کی ہدایت پر لایا جائے۔ رفع الغايات الدعوة ۔ هل هي اصلاح الفرد ۔ او اصلاح المجتمع والاسرة۔ او اصلاح الدولة - او هداية المسلمين الى الاسلام الصحيح ۔ او هداية غير المسلمين الى الاسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader