دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
ان ابتدائی سطور کے بعد جو اصل گفتگو شروع ہوئی وہ ساری کی ساری اسلام اور مسلمانوں کے دشمن (اعداء الاسلام والمسلمين) پر چلتی رہی، یہاں تک کہ سات صفحات کا طویل مضمون ختم ہو گیا اور کسی عالم نے یہ نہیں بتایا کہ دعوت الی اللہ کا لفظ اصلا جس عمل کے لئے قرآن میں استعمال ہوا ہے وہ دیگر اقوام میں اسلام کی اشاعت ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اگر چہ دعوت کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں مگر وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ”دعوت“ سے فی الواقع کون سا عمل مراد ہے۔ ان کی یہ بے خبری اتنی ہم گیر ہے کہ اصاغر تو در کنار ان کے اکابر بھی اس سے نا واقف ہیں۔ ایسی حالت میں یہ ان کے لئے از سر نو دریافت کا معاملہ بن گیا ہے۔ ان کے لئے یہ ایک بھولی ہوئی بات ہے جس کو انھیں دوبارہ اپنی یادوں کی گرفت میں لے آنا ہے۔ بلا شبہ آج سب سے بڑا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے شعور کو بیدار کیا جائے اور انھیں فکری اعتبار سے اس قابل بنایا جائے کہ وہ دعوت کو از سر نو دریافت (Rediscover) کر سکیں۔ یہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے، دنیا کے اعتبار سے بھی، اور یقینی طور پر آخرت کے اعتبار سے بھی۔ مہاتما گاندھی کی مثال اس معاملہ کی وضاحت کے لئے میں مہاتما گاندھی (۱۸۶۹ - ۱۹۴۸) کی مثال دوں گا۔ ہندوستان میں تحریک آزادی کا آغاز ۱۸۵۷ میں ہوا جو تقریباً ۱۹۱۹ تک جاری رہا۔ اس پہلے مرحلے میں آزادی کے حصول کے لئے جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ تشدد کا طریقہ تھا۔ تشدد کے طریقے میں طاقت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اور اس وقت کے ہندوستان میں طاقت تمام تر برطانیہ کے ہاتھ میں تھی۔ اس لئے آزادی کو بذریعہ تشدد حاصل کرنے کی کوشش مکمل طور پر ناکام رہی۔ اس کے بعد مہاتما گاندھی سیاست کے منظر پر نمایاں ہوئے۔ انھوں نے پورے معاملہ کو الٹ دیا۔ انھوں نے تشدد کے بجائے عدم تشدد کے ذریعہ آزادی حاصل کرنے کا نعرہ دیا۔ یہ طریقہ وہی تھا جس کو موجودہ زمانہ کے سیاسی مورخین عمل بغیر تشدد (Nonviolent activism) کا نام دیتے ہیں۔ عمل بغیر تشدد کا نظریہ اس سے پہلے مختلف لوگ پیش کر چکے تھے۔ مثلاً ہنری تھارو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader