دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
(Henry Thoreau) اور جان رسکن (John Ruskin) اور ٹالسٹائے (Tolstoy) اور جارج سِزوِریل (Georges Sorel) وغیرہ۔ تاہم اس نظریہ کو مہاتما گاندھی نے جتنے بڑے پیمانے پر عملی استعمال کیا وہ ابھی تک کوئی دوسرا استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ غیرتشدد پسند طریقہ کو مئوثر بنانے کے لئے مہاتما گاندھی نے سول نافرمانی (Civil Disobedience) اور عدم تعاون (Non cooperation) کی اصطلاح ایجاد کی۔ اس طریقہ کی کامیابی اس میں تھی کہ ہتھیار کی طاقت کی جگہ عوام کی طاقت کو استعمال کیا جائے۔ چنانچہ مہاتما گاندھی نے یہ کیا کہ عوام کو ان کے مقامات سے نکال کر سڑکوں پر لے آئے۔ انھوں نے انگریزی حکومت سے بائیکاٹ کی تحریک چلائی۔ قانون ساز اداروں کا بائیکاٹ، عدالتوں کا بائیکاٹ، دفتروں کا بائیکاٹ، حتیٰ کہ اسکولوں اور کالجوں کا بائیکاٹ اس "پُرا من تشدد" میں یہ بھی شامل تھا کہ سرکاری ٹیکس نہ دیا جائے۔ چنانچہ 1930 میں نمک کا ٹیکس نہ دینے کے جرم میں ساٹھ ھزار ہندوستانی گرفتار ہوئے۔ ان چیزوں کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں 1920 سے 1934 تک جاری رہا۔ اس کے نتیجہ میں برطانیہ کے خلاف جو عوامی طاقت منظم ہوئی اس نے برطانوی حکومت کی جڑیں ہلا دیں۔ یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد، 1947 میں انگریزوں کو ہندوستان چھوڑ دینا پڑا۔ اس طرح مہاتما گاندھی کی تدبیر حصولِ آزادی کے لئے تو کار آمد ثابت ہوئی مگر اس کا دوسرا نتیجہ منفی تھا۔ اس کی وجہ سے ملک میں قانون شکنی کی روایت قائم ہوئی ۔ ڈسپلن کو توڑ نا ایک مقدس قومی عمل قرار پایا۔ تعلیم کے بجائے تقریر کسی شخص کے لئے نمایاں ہونے کا آسان ذریعہ بن گیا۔ اتھارٹی کی تائید کم تر چیز قرار پائی اور اتھارٹی کو چینج کرنا ایک ایسا ہیروِانہ عمل بن گیا جو فی الفور آدمی کو اخبارات کے صفحہ میں نمایاں کر دے۔ ان چیزوں نے سابقہ روایات کو لوگوں کے ذہنوں سے محو کر دیا۔ وہ بھول گئے کہ سول نافرمانی ایک وقتی تدبیر تھی نہ کہ مستقل اصول۔ اب ضرورت تھی کہ آزادی کے بعد ڈسپلن اور قانون کے احترام کی روایت کو از سرِ نو دریافت (Rediscover) کیا جائے ۔ جو چیز تحت شعور میں چلی گئی ہے، اس کو دوبارہ شعور کی سطح پر زندہ کیا جائے۔ مگر یہ کام نہ ہوسکا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان کی آزادی عملاً معنی ہو کر رہ گئی۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے، ہندوستانی لیڈروں میں صرف مہاتما گاندھی ایک ایسے شخص تھے جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader