Urdu book · دین کامل

دعوت الی اللہ

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاملے کی اہمیت کو شعوری طور پر جانتے تھے۔ چنانچہ آزادی کے فوراً بعد انھوں نے اس کی کوشش شروع کر دی۔ حتیٰ کہ انھوں نے یہ تجویز پیش کی کہ کانگریس کو سیاسی پارٹی کی حیثیت سے ختم کر دیا جائے اور "جن کا نگریں" کے نام سے ایک خالص تغیری اور غیر سیاسی پارٹی بنائی جائے۔ مگر قانون شکنی کے سیلاب کو دوبارہ وہ قانونی احترام کے رخ پر نہ موڑ سکے۔ یہاں تک کہ آزادی کے صرف ساڑھے پانچ مہینہ بعد ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مہاتما گاندھی نے "نمک" کے معاملے میں قانون کو توڑا تھا، یہ عمل آخر کار "جان" کے معاملے میں قانون کو توڑنے تک پہنچ گیا۔ مہاتما گاندھی کا خاتمہ ہندوستان کے لئے نئی امید کا بھی خاتمہ تھا۔ اس کے بعد ہندوستان ان قدروں کو دوبارہ دریافت (Rediscover) نہ کر سکا جس کو اس نے عدم تشدد کی پرشور تحریک کے درمیان کھو دیا تھا۔ اب پورا ملک انارکی کے راستے پر چل پڑا۔ بظاہر اس کی امید نہیں کہ آزادی کے پچاس سال بعد بھی اس کے رخ کو موڑنا ممکن ہو سکے گا۔ جاپان کی مثال وہ دور جس کو جاپان کی تاریخ میں میجی کی بحالی ((Meji Restoration) کا دور کہا جاتا ہے، وہ ۱۹ ویں صدی کے وسط میں شروع ہوا۔ شہنشاہ میجی نہایت ترقی پسند آدمی تھا۔ اس نے نئی چیزوں کو فروغ دینے کی طرف خصوصی توجہ دی۔ اس دور میں جاپان میں تیزی سے مغربی تعلیم اور مغربی صنعت کار رواج ہوا۔ انگریزی اور دوسری یورپی زبانیں پڑھی جانے لگیں۔ جاپانی نوجوان بڑی تعداد میں تعلیم کے لئے یورپ اور امریکہ گئے ۔ (6/370) مگر ۱۹ ویں صدی کے آخر میں ایک اور انقلاب آیا۔ ۱۸۷۷ میں بغاوت ہوئی جس کو جاپان کی تاریخ میں (Satsuma Rebellion) کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے بعد ایک نیا ذہن پیدا ہوا۔ مغربی تہذیب کو جاپانی قومیت کے لئے خطرہ بتایا جانے لگا۔ اس طرح جاپان میں ایک نیا عسکری دور شروع ہوا۔ جرمنی کے زیر اثر فاشزم (Fascism) کی تحریک پھیلی ۔ ۲۶ فروری ۱۹۳۶ کو فوج نے ملک پر قبضہ کر لیا۔ معتدل دانشور اور مفکر قتل کئے جانے لگے۔ مغرب کے لبرل خیالات کے بارے میں یہ کہا جانے لگا کہ اس سے جاپان کی روایتی فوجی ایسپرٹ (Military spirit) ختم ہو جائے گی۔ یہ سمجھا جانے لگا کہ جاپان میں عسکریت پیدا کرنا اس کے نیشنل آئیڈیل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page