Urdu book · دین کامل

دعوت الی اللہ

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

(National ideal) کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ جاپانی یہ خواب دیکھنے لگے کہ وہ اپنے اقتدار کو "پانچوں براعظموں" تک وسیع کردیں (7/188)۔ یہی عسکری مزاج تھا جس کے تحت جاپانی دوسری جنگ عظیم میں محوری طاقتوں (Axis Powers) کے ساتھ مل کر اتحادی طاقتوں (Allied Powers) کے خلاف لڑگئے۔ اس جنگ میں انھوں نے جنون کی حد تک فوجی جوش کا مظاہرہ کیا جس کی ایک مثال جاپان کے خودکشی کرنے والے جہاز تھے جن کو کامیکاز جہاز (Kamikaze Planes) کہا جاتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے بمبار جہاز تھے جن کو لے کر ان کا پائلٹ اپنے نشانہ پر گر پڑتا تھا۔ اور غیر معمولی تباہی برپا کرتا تھا۔ مگر جاپانیوں کے تمام جنگی جنون کے باوجود انھیں اس جنگ میں شکست ہوئی۔ امریکہ کے دو ایٹم بموں نے ان کی معاشیات اور ان کی فوجی طاقت کو تہس نہس کر دیا۔ جاپان کے لئے یہ انتہائی غیر متوقع حادثہ تھا۔ مگر اس سے بھی زیادہ غیر متوقع ان کا ردعمل ہے جو اس حادثہ کے بعد ان کی طرف سے ظاہر ہوا۔ انھوں نے پورے معاملے پر از سر نو غور کیا۔ انھوں نے حالات کا اعتراف کرتے ہوئے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ انھیں جنگ کے بجائے علم کے میدان میں اپنی قومی جدوجہد کو جاری کرنا چاہئے۔ انھوں نے علم کی اس اہمیت کو از سر نو دریافت (Rediscover) کیا جس کو وہ پچھلے برسوں میں بھول گئے تھے۔ اس دریافت نو کا عظیم فائدہ جاپان کو ملا۔ نئے راستہ پر صرف ایک نسل تک عمل کرنے کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ انھوں نے وہ بالاتری سائنس اور صنعت کے ذریعہ حاصل کر لی جس کو وہ بے فائدہ طور پر جنگ کے ذریعہ تلاش کر رہے تھے۔ وہ چیز جس کو میں از سر نو دریافت (Rediscover) کہہ رہا ہوں اس کی جدید تاریخ میں غالباً اتنی شاندار مثال کوئی دوسری نہیں ہے جو جاپان کے یہاں نظر آتی ہے۔ دورِ جدید کے مسلمان قرآن وسنت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دین میں اصل اہمیت دعوت کی ہے۔ یعنی غیر مسلم اقوام تک خدا کے پیغام کو پہنچانا۔ مگر بعض واضح اسباب کے تحت موجودہ زمانہ کے مسلمان اس کام کی اہمیت کو بھول گئے ہیں۔ وہ دعوت کے شعور سے اتنے بے بہرہ ہو چکے ہیں کہ دوسرے دوسرے کاموں کو دعوت کا کام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page