Urdu book · دین کامل

دعوت الی اللہ

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

سمجھتے ہیں ۔ وہ اپنی قومی سرگرمیوں میں مشغول ہوتے ہیں اور اس کو دعوت کا عنوان دے دیتے ہیں۔ ان کی مثال اس گروہ کی سی ہے جو ’’صلوۃ ‘‘ سے اس درجہ بے خبر ہو جائے کہ ۱۲ ربیع الاول کو میلاد النبی کی دھوم مچائے اور سمجھے کہ وہ اس فریضہ کو انجام دے رہا ہے جس کو قرآن و حدیث میں اقامت صلوٰۃ کہا گیا ہے۔ ان کی بے خبری اس آخری انتہا تک پہنچ گئی ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ خود دعوت کا کام نہیں کر رہے ہیں ، بلکہ دعوتی شعور سے محرومی کی بنا پر وہ ایسے اعمال میں مشغول ہیں جو دعوت کے مواقع کو بالکل ختم کردے۔ دعوت کی لازمی شرط یہ ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان کسی بھی قسم کی مادی یا قومی کشکش نہ پائی جاتی ہو۔ مدعو کے ساتھ مادی اور قومی کشکش اس فضا کو بالکل برباد کر دیتی ہے جس میں دعوت موثر ہو سکے۔ چنانچہ داعی ایک طرفہ طور پر یہ ذمہ داری لیتا ہے کہ وہ مدعو کے ساتھ کسی بھی حال میں مادی اور قومی کش نہیں کرے گا۔ وہ مدعو کے ساتھ ہر مادی اور قومی نزاع کو ایک طرفہ طور پر ختم کر دے گا تاکہ دعوتی عمل کی راہ ہموار ہو سکے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی دعوتی بے شعوری کی بنا پر ساری دنیا میں مدعو اقوام کے ساتھ سیاسی اور مادی اور قومی جھگڑے چھیڑے ہوئے ہیں۔ یہ جھگڑے خواہ مسلمانوں کے نزدیک کتنے ہی زیادہ ضروری ہوں، وہ دعوتی عمل کے لئے زہر ہیں۔ یہاں پہنچ کر مسلمانوں کی دعوتی بے شعوری ایک سنگین جرم کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ مسلمانوں کو مدعو اقوام سے ہر قسم کی غیر دعوتی نزاع کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا ہوگا۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ خدا کے اس قانون کی زد میں آجائیں جس کی زد میں یہود آئے اور پھر وہ دنیا اور آخرت میں خدا کی نصرت سے محروم ہو کر رہ گئے ۔ موجودہ زمانہ میں تمام دوسرے کاموں سے زیادہ اہم کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر از سر نو دعوت کا شعور پیدا کیا جائے ۔ دعوت کیا ہے ۔ دعوت کی ذمہ داریاں کیا ہیں ، خدا کی نصرت کس طرح تمام تر دعوت کے عمل پر منحصر ہے۔ یہ تمام باتیں مسلمانوں کے ذہن سے اوجھل ہو گئی ہیں ۔ مسلمانوں کے اصاغر اور اکابر دونوں ہی طبقے یکساں طور پر اس معاملے میں بے شعوری کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس شعور کو بیدار کرنا، مسلمانوں کے لئے دعوت کو از سر نو دریافت کرنا نا وقت کا سب سے بڑا ا ور سب سے اہم کام ہے۔ ہر دوسرے کام کا نمبر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page