دعوت الی اللہ
Urdu book, p. 210
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد آتا ہے۔ شعور دعوت کے زندہ ہونے پر، ہی بقیہ تمام چیزوں کی زندگی کا انحصار ہے۔ ڈیوٹی کے خلاف بادشاہ نے ایک قحط زدہ علاقہ کی ریلیف کے لئے کچھ لوگوں کو بھیجا۔ ان کو نقد اور ضروری سامان دیا کہ لے جاکر قحط زدہ لوگوں میں تقسیم کر دو۔ وفد وہاں پہنچا تو اس نے بادشاہ کے دئے ہوئے سامان کو اپنے پاس رکھ لیا اور مقامی لوگوں کے خلاف طرح طرح کی شکایتیں نکال کر ان سے لڑنے جھگڑنے لگا تم نے ہمارا استقبال نہیں کیا۔ تم نے ہم کو رہنے کے لئے گھر نہیں دئے تمہارے لڑکوں نے ہم کو اجنبی سمجھ کر ہمارے ساتھ برا سلوک کیا، وغیرہ بادشاہ کو معلوم ہوا تو وہ ریلیف کمیٹی کے ممبران پر سخت غضب ناک ہوا۔ اس نے ان سب کو گرفتار کر کے جیل خانہ میں بند کر دیا۔ اس نے کہا کہ تم کو میں نے قحط زدہ لوگوں کی امداد کے لئے بھیجا تھا نہ کہ ان سے جھگڑنے کے لئے۔ تم یہ امید لے کر وہاں کیوں گئے کہ تمہارے ساتھ وہاں شاندار سلوک کیا جائے گا۔ بالفرض اگر انھوں نے تمہارے ساتھ بدسلوکی کی تھی، تب بھی تم کو یہ کرنا چاہئے تھا کہ میرا دیا ہوا سامان دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ ان کے درمیان تقسیم کرو اور پھر میرے پاس واپس چلے آؤ۔ تمہارا معاوضہ میرے ذمہ تھا نہ کہ ان کے ذمہ ۔ اگر ان کے برے سلوک کے باوجود تم اپنی ڈیوٹی بخوبی طور پر انجام دیتے تو میرے نزدیک تمہاری قدر بڑھ جاتی اور میں کئی گنا اضافہ کر کے اس کا انعام تمہیں دیتا۔ مگر جب تم اپنی ذمہ داری کے بجائے اپنے حقوق کی فکر میں پڑ گئے تو اب میرے پاس تمہارے لئے کچھ نہیں۔ اب جاؤ جیل خانہ کی سزا بھگتو۔ یہی مثال موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب ہدایت دے کر انھیں مامور کیا تھا کہ وہ تمام قوموں کو اس کی تعلیمات سے باخبر کردیں۔ وہ خدا کے بندوں تک خدا کا پیغام پہنچا دیں۔ مگر مسلمانوں نے یہ کیا کہ طرح طرح کی شکایتیں لے کر اپنی مدعو اقوام سے لامتناہی جھگڑا چھیڑ دیا۔ اب خدا کا پیغام تو مسلمانوں کے گھروں میں رکھا ہوا ہے اور جن قوموں تک یہ پیغام پہنچانا تھا، ان سے ہر جگہ جنگ چھڑی ہوئی ہے، کہیں لفظی اور کہیں عملی۔ کہیں احتجاج کی سطح پر اور کہیں ٹکراؤ کی سطح پر۔ مسلمان اپنے اس عمل سے عین اسی انجام کے مستحق ہو رہے ہیں جس کے مستحق وہ لوگ ہوئے تھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader