Urdu book · دین کامل

میدانِ عمل

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا واقعہ، علامتی طور پر، ہماری پوری جدید تاریخ کی تصویر ہے۔ موجودہ زمانہ میں بار بار یہی ہوا۔ اور اب بھی یہی ہو رہا ہے کہ مسلمان فریق ثانی سے اس کے موافق میدان میں ٹکر اؤ کرتے ہیں اور ہر بار شدید ترین شکست سے دوچار ہو رہے ہیں۔ دین کا استحکام قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کر دیا۔ اور اپنی نعمت کی تکمیل کر دی اور قیامت تک کے لئے اسلام کو مقبول دین کی حیثیت سے پسند کر لیا (المائدہ (۳)، اس اعلان کے ساتھ مزید ارشاد ہوا ہے: اليَومَ يئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُم آج انکار کرنے والے تمہارے دین کی طرف سے فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ (المائدہ (۳) مایوس ہوگئے، تم ان سے نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ڈرو۔ قرآن کی یہ آیت ذی الحجہ ۹ھ میں اتری۔ اس کے اترنے کے تقریباً ڈھائی مہینے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ اس آیت میں اليوم (آج ) کا لفظ بہت با معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن دو منڈ ہی دوروں کے درمیان حد فاصل ہے۔ قرآن کے بعد مذہب کی دنیا میں ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ پہلے اگر "تخشوهم" کا دور تھا، تو اب "اخشونی" کا دور ہے۔ پہلے اگر غلبہ کفر کا دور تھا ، تو اب غلبہ دین کا دور ہے۔ قرآن کی تکمیل نے اب خدا کے دین کو آخری طور پر مستحکم کر دیا ہے۔ اس آیت سے صراحتہً یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اب تشویش اور اندیشہ کی چیز یہ ہے کہ اہل ایمان کے اندر خشیت الہی (خدا کا خوف) باقی نہ رہے۔ خارجی دشمنوں کی طاقت خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، اہل ایمان کے لئے کوئی خطرہ پیدا نہیں کرتی۔ دین کے غلبہ و استحکام سے مراد اس کا سیاسی غلبہ و استحکام نہیں۔ سیاسی غلبہ اس دنیا میں کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ وہ اگر ایک مقام پر پایا جاتا ہے تو دوسرے مقام پر نہیں پایا جاتا۔ اس لئے یہاں غلبہ سے وہ غلبہ مراد لینا ہوگا جو ہر وقت اور ہر جگہ پوری طرح حاصل رہے۔ جس میں کبھی انقطاع ممکن نہ ہو۔ اس قسم کا جباری اور مستم غلبہ صرف فکر اور نظریہ سے متعلق ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں غلبہ سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یہ قرآن اور دین کامل کی وہ خصوصیت ہے جو اس کو ہر حال میں حاصل رہے گی ۔ حتیٰ کہ کسی مقام پر کوئی ایک شخص حامل قرآن ہو تو وہ بھی اس سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page