میدانِ عمل
Urdu book, p. 248
By Maulana Wahiduddin Khan
نپولین (Bonaparte in miniature) لکھا ہے۔ اسی طرح دوسرے مورخوں اور سیاحوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تدبر اور حکمرانی کی صلاحیت کا غیرمعمولی الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔ اس کے اسی تدبر کا نتیجہ تھا کہ اس نے فوج کی تنظیم جدید کی اہمیت کو محسوس کیا۔ ۱۸۲۰ء میں اس نے اپنی فوج کو یورپ کے معیار پر منظم کرنا شروع کیا۔ اس نے یورپ کے ۵۰ فوجی افسروں کو اپنی فوج کی تربیت پر مقرر کیا۔ ان میں اکثریت ان فوجی افسروں کی تھی جو نپولین بونا پارٹ کی فوج میں کام کر چکے تھے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۳) کے مقالہ نگار نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رنجیت سنگھ کی اس فوج نے ۱۸۳۱ء میں سرحدی قبائل کی ایک شورش کو کامیابی کے ساتھ کچل دیا جو ایک جنونی مسلمان سید احمد بریلوی، کے نعرہ جہاد کے تحت ابھری تھی : In 1831 it successfully quelled a rising of the Frontier tribesmen roused to سید احمد شہید بریلوی نے سکھوں کے اوپر شمشیری قوت کو استعمال کیا۔ مگر وہ مکمل طور پر ناکام رہے۔ زبردست نقصان اور قربانی کے باوجود وہ ایک فی صد کے درجے میں بھی کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکے۔ دوسری طرف انہیں سکھوں کو اسلام کی دعوتی طاقت مسلسل مسخر کرتی رہی ہے۔ گرو نانک اسلام کی تعلیمات سے اتنا زیادہ متاثر ہوئے کہ انہوں نے توحید اور رسالت محمدی کے عقیدہ کو اپنی مذہبی کتاب (گرو گر نتھ صاحب) میں شامل کیا۔ امرتسر کے سورن مندر کی بنیاد مسلمان بزرگ میاں میر سے رکھوائی گئی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں کچھ علماء گئے تو اس نے تخت سے اتر کر اپنی لمبی داڑھی سے ان کے جوتے صاف کئے۔ اس کے علاوہ بہت سے سکھ ہیں جنہوں نے باقاعدہ کلمۂ توحید کا اقرار کر کے اسلام قبول کر لیا۔ انہی میں سے ایک مولانا عبیداللہ سندھی (۱۹۴۴ - ۱۸۷۲) تھے۔ وہ سندھ کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بعد کو انہوں نے اسلامی کتابیں پڑھیں اور اسلام سے متاثر ہو کر اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئے ۔ وغیرہ۔ حدیبیہ کی مثال روایات میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے بعد کے دور میں تابعین سے کہا کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو، مگر ہم لوگ واقعہ حدیبیہ کو فتح قرار دیتے تھے (عن البراء قال : تعدُّون الفتح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader