میدانِ عمل
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
فتح مکہ - ونحن نعدّ الفتح يوم الحديبية، سيرة ابن کثیر، المجلد الثالث، صفحه (۳۲۴) فتح مکہ (۸ھ) کھلا ہوا فتح کا واقعہ تھا۔ جب کہ حدیبیہ بظاہر شکست اور پسپائی کا واقعہ تھا۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تقریبا ڈیڑھ ہزار اصحاب عمرہ کے ارادہ سے مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ مگر قریش نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیا۔ آپ کو اپنے تمام ساتھیوں سمیت عمرہ ادا کئے بغیر راستہ ہی سے واپس آجا نا پڑا۔ اس کے باوجود صحابہ کرام کے نزدیک فتح کا اصل واقعہ تو جو حدیبیہ میں پیش آیا نہ کہ وہ جب کہ مکہ میں فاتحانہ داخلہ ہوا۔ اصحاب رسول کا یہ نقطہ نظر بتاتا ہے کہ پسپائی بھی بہت بڑا اقدام ہے۔ بظاہر ایک شکست کے واقعہ میں فتح کا راز چھپا ہوتا ہے۔ واقعہ کا یہ پہلو بے حد اہم ہے، اور اس بنا پر حدیبیہ کے واقعہ کا نہایت گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جانا چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تقریبا ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ یکم ذی قعدہ ۶ھ کی تاریخ تھی اور آپ کا مقصد یہ تھا کہ مکہ پہنچ کر بیت اللہ کا عمرہ کریں۔ قریش پچھلے ۶ سال سے مسلمانوں کے لئے زیارت کعبہ کا راستہ بند کئے ہوئے تھے۔ اس مدت میں کوئی مسلمان نہ حج کر سکتا تھا اور نہ عمرہ۔ اس لئے جب انھوں نے سنا کہ ڈیڑھ ہزار مسلمانوں کا قافلہ آرہا ہے کہ وہ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرے تو وہ سخت غضبناک ہو گئے ۔ ذی قعدہ کا مہینہ اگر چہ حرام مہینوں میں سے تھا۔ یہ مہینہ سیکڑوں سال سے کعبہ کی زیارت اور حج کے لئے محترم سمجھا جاتا تھا۔ کسی کو حق نہ تھا کہ باہر سے آنے والے کسی شخص کو زیارت کعبہ سے روکے۔ مگر قریش نے جاہلی عصبیت کے تحت یہ فیصلہ کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو دن کی مسافت طے کر کے عسفان کے مقام پر پہنچے ۔ یہاں آپ کی ملاقات مُسبر بن سفیان الکعبی سے ہوئی جو کہ مکہ کی طرف سے آ رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ قریش کو آپ کے اس سفر کی خبر ہوگئی ہے۔ وہ مکہ سے نکل کر ذی طوی میں جمع ہو گئے ہیں۔ انھوں نے چیتے کی کھالیں پہن رکھی ہیں (یعنی سخت غضب ناک ہیں انھوں نے عہد کر رکھا ہے کہ وہ ہرگز آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ اور انھوں نے خالد بن ولید کو ۲۰۰ گھوڑ سواروں کے ساتھ کراع الغمیم کی طرف روانہ کیا ہے تاکہ آپ سے ٹہ بھیڑ کریں (سیرت ابن ہشام، الجزء الثالث

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader