میدانِ عمل
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
اب ایک صورت یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مقابلے کے لئے تیار ہو جاتے اور اپنے لوگوں کو جہاد و قتال کی راہ میں لگا دیتے۔ مگر آپ نے اس کے بالکل برعکس عمل فرمایا۔ آپ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں کون شخص ہے جو ہم کو خالد کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ سے چلا کر آگے لے جائے (مَنْ رَّجُلٌ يُخْرَّجُ بِنَا عَلَى طَرِيقٍ غَيْرِ طَرِيقِهِمُ الَّتِي هُمْ بِهَا، صفحہ ۳۵۷) عبد اللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، یہ کام میں کروں گا۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں کے قافلہ کو لے کر روانہ ہوا۔ اس نے اس معروف راستہ کو چھوڑ دیا جس پر خالد بن ولید بڑھے ہوئے چلے آ رہے تھے۔ اس کے بجائے وہ ایک اور سمت سے روانہ ہوئے۔ باقاعدہ راستہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ سفر سخت دشواریوں کے ساتھ طے ہوا۔ حتی کہ اس پر مشقت سفر پر بعض مسلمانوں کی زبان سے کلمہ شکایت نکل گیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: کہو کہ ہم اللہ سے مغفرت چاہتے ہیں اور اس کی طرف توبہ کرتے ہیں (قولوا نستغفر الله ونتوب اليه ، ۳۵۷) جس موقع پر یہ استغفار اور توبہ کرائی گئی اس کے لحاظ سے دیکھئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب تم کو اپنے آپ پر مصیبت اٹھا کر ٹکراؤ سے بچنے کا حکم دیا گیا تو تم نے شکایت کا لفظ کیوں اپنی زبان سے نکالا۔ تم کو کامل رضامندی کے ساتھ اس خدائی منصوبہ پر چلنا چاہئے تھا۔ اب جب کہ اس معاملہ میں تم سے بے صبری کا اظہار ہوا ہے تو استغفار اور توبہ کے ذریعہ اس کی تلافی کرو۔ اصل یہ ہے کہ قریش کوئی نہ کوئی بہانہ نکال کر جنگ چھیڑ نا چاہتے تھے مگر آپ نے ہر قیمت پر جنگ سے اعراض کیا۔ خالد بن ولید سواروں کا دستہ لے کر آپ کی طرف بڑھے تو آپ نے راستہ بدل دیا۔ خراش بن امیہ کو آپ نے سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ وہاں قریش نے ان کے اونٹ کو مار ڈالا۔ وہ خراش کو بھی قتل کر دینا چاہتے تھے تاہم وہ کسی نہ کسی طرح بھاگ کر واپس آگئے۔ قیام حدیبیہ کے زمانہ میں ایک بار مکہ کے پچاس آدمی رات کے وقت آئے اور صحابہ کے پڑاؤ پر پتھر مارنا اور تیر برسانا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader