میدانِ عمل
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
شروع کیا۔ انھوں نے آپ کو عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونے سے روکا۔ یہ بذات خود یہ معنی رکھتا تھا کہ آپ مشتعل ہو کر آمادہ جنگ ہو جائیں۔ آخری مرحلہ میں جب معاہدہ حدیبیہ کی شرطیں مقدر کی جانے لگیں تو انھوں نے یک طرفہ شرائط پر اصرار کیا جو تمام مسلمانوں کے لئے سخت اشتعال انگیز اور نا قابل برداشت تھا وغیرہ۔ مگر آپ برابر ٹھکر اؤ سے اعراض کرتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ پہنچ کر رک گئے۔ اس مقام کا موجودہ نام شمیسی ہے اور مکہ سے تقریباً دس میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہیں پر قریش کے نمائندوں سے گفتگو ہوئی اور وہ صلح طے پائی جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ حدیبیہ کے پورے واقعہ پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان ایک بلا اعلان مقابلہ جاری تھا۔ قریش کی ساری کوشش یہ تھی کہ آپ کو میدان جنگ میں لے آئیں۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ہر ظلم کو سہتے ہوئے اور ان کی ہر اشتعال انگیزی کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ قریش کو صلح کے میدان میں لے آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر رد عمل اور جوابی کارروائی کا انداز اختیار فرماتے تو قریش کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا اور مسلمان اور قریش ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یک طرفہ صبر اور اعراض اس بات کی ضمانت بن گیا کہ قریش کا خونی منصوبہ کامیاب نہ ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مصالحانہ منصوبہ کامیاب ہو جائے۔ یہ دراصل وہی تدبیر تھی جس کو جنگ کی اصطلاح میں (Ground of one's own choice) کہا جاتا ہے۔ یعنی حریف کو مقابلہ کے لئے اپنے موافق میدان میں لے آنا۔ اس وقت قریش کے لئے مقابلہ کا موافق میدان جنگ تھا کیوں کہ قریش جنگی طاقت میں واضح طور پر مسلمانوں پر برتری رکھتے تھے۔ دوسری طرف فکری اور نظریاتی میدان میں مسلمانوں کو برتری حاصل تھی۔ قریش کی بت پرستی کے مقابلہ میں اسلام کی توحید ہر اعتبار سے فائق حیثیت رکھتی تھی۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری کوشش یہ تھی کہ آپ کے اور قریش کے درمیان مقابلہ کا میدان جنگ نہ بنے بلکہ آپ کا اور قریش کا مقابلہ فکری اور نظریاتی میدان میں منتقل ہو جائے۔ تاہم اس مقصد کو حاصل کرنا آسان کام نہ تھا۔ ایک طرف اس کے لئے ضروری تھا کہ آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader