Urdu book · دین کامل

میدانِ عمل

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں حتیٰ کہ قریش کی جارحیت کو بھی خاموشی کے ساتھ برداشت کریں۔ اور دوسری چیز یہ کہ قریش کی ہر شرط کو یک طرفہ طور پر منظور کرتے چلے جائیں۔ چنانچہ آپ نے یہی کیا۔ حدیبیہ میں آپ کے اور قریش کے درمیان جو معاہدہ طے پایا اس میں تمام شرطیں یک طرفہ طور پر قریش کے حق میں تھیں۔ اس کے باوجود آپ نے ان تمام شرطوں کو اس لئے منظور کر لیا کہ اس کی رو سے قریش اگلے دس سال کے لئے اس بات کے پابند ہوجاتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جنگ نہیں کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کا معاہدہ صلح کر کے مدینہ کے لئے واپس ہوئے تو راستے میں سورہ فتح نازل ہوئی جس کی پہلی آیت یہ تھی : انا فتحنا لك فتحا مبینا (ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی) یعنی فریقِ ثانی مقابلہ کو اپنے موافق میدان (جنگ) کی طرف لے جانا چاہتا تھا۔ مگر اس معاہدہ کے بعد فریقِ ثانی کے ساتھ تنہا نہار امنقابلہ اس میدان (دعوت) میں آگیا جو واضح طور پر تمہارے موافق ہے۔ بعد کے حالات نے کامل طور پر اس اندازہ کی تصدیق کر دی۔ حدیبیہ کے ناگنگ معاہدہ کے بعد مسلمانوں اور دیگر قبائل کے درمیان آزادانہ اختلاط شروع ہو گیا۔ توحید کی دعوت بلا روک ٹوک ہر طرف پھیلنے لگی۔ توحید کا پیغام جہاں بھی پہنچا اس نے شرک اور بت پرستی کے ذہن کو ہارنے پر مجبور کر دیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ صلح حدیبیہ سے پہلے تقریباً بیس سال میں جتنے لوگ مسلمان ہوئے تھے اس سے بہت زیادہ لوگ صلح حدیبیہ کے بعد صرف دو سال میں مسلمان ہو گئے۔ اب اسلام کی عددی طاقت اتنی زیادہ ہو چکی تھی کہ قریش کے اندر مقابلہ کا حوصلہ باقی نہ رہا۔ وہی قریش جنہوں نے شھ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو مکہ میں صرف عمرہ کی غرض سے داخل ہونے پر پابندی لگا دی تھی، شھ ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف فاتحانہ کوچ کیا تو قریش کے سردار نے مکہ میں اعلان کر دیا کہ اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ، کیوں کہ آج ہمارے اندر محمد سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ صلح حدیبیہ، ایک لفظ میں، فریقِ ثانی سے مقابلہ کو جنگ کے میدان سے نکال کر دعوت کے میدان میں لانا ہے۔ یہ اسلام کی حکمت بالغہ کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اور اس مثال کا سب سے اعلیٰ نمونہ وہ ہے جو خود پیغمبر اسلام صلی اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page