میدانِ عمل
Urdu book, p. 253
By Maulana Wahiduddin Khan
علیہ وسلم نے اپنے عمل سے قائم فرمایا۔ وسیع تر میدان ظاہری طور پر دیکھنے میں حدیبیہ کا واقعہ میدانِ مقابلہ سے واپسی کا واقعہ معلوم ہوتا ہے لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو وہ چھوٹے مقابلہ سے ہٹ کر بڑے مقابلہ کی طرف جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ " حدیبیہ " محدود میدانِ مقابلہ کو چھوڑ کر زیادہ وسیع میدانِ مقابلہ کی طرف اقدام تھا۔ اس اعتبار سے وہ بلاشبہ تدبیری حکمت (Strategy) کی ایک شاہکار مثال ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بے مشن آدمی نہ تھے۔ بلکہ آپ کا ایک عظیم الشان مشن تھا۔ اور صاحبِ مشن آدمی کے لئے پسپائی کا کوئی سوال نہیں۔ آپ کا معاملہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کو یہ پیغام دیتے تھے کہ وہ شرک کے بجائے توحید کا طریقہ اختیار کریں۔ آپ مخلوق پرستی کے بجائے خالق پرستی، بے اصول زندگی کے بجائے با اصول زندگی، دنیا پسندی کے بجائے آخرت پسندی ، مصنوعی طریقوں کے بجائے فطری طریقوں کو اختیار کرنے کے علم بردار تھے۔ آپ کے یہ افکار دنیا کے تمام افکار سے زیادہ طاقتور تھے۔ مگر مسلسل جنگی حالات نے آپ کے افکار کی اس طاقت کو ظاہر ہونے سے روک رکھا تھا۔ اس معاملہ کو ایک عام مثال کے ذریعہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک سائنسداں اور ایک نگیر و باکسر کا مقابلہ اگر باکسنگ کے اکھاڑے میں ہو رہا ہو تو وہاں یقینی طور پر باکسر کا پلۂ بھاری رہے گا لیکن اگر سائنس داں کسی حکمت سے مقابلہ کے میدان کو بدل دے اور باکسر کو باکسنگ کے اکھاڑے سے نکال کر سائنٹفک بحث کی میز پر لے آئے تو یقینی طور پر صورتِ حال بدل جائے گی۔ پہلے اگر باکسر کا پلۂ بھاری تھا تو اب سائنس داں کی جیت یقینی ہو جائے گی۔ قدیم عرب میں، ہجرت کے بعد یہ صورتِ حال تھی کہ قریش کی ہٹ دھرمی نے " جنگ " کو مقابلہ کا میدان بنا دیا تھا۔ صلح حدیبیہ کی صورت میں جب دونوں فریقوں کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ (No-war pact) ہوا تو اس کے بعد مقابلہ کا میدان بدل گیا۔ اب میدانِ جنگ کے بجائے میدانِ افکار مقابلہ کا مقام قرار پا یا۔ اس دوسرے میدان میں اہلِ اسلام واضح طور پر اپنے فریق کے مقابلہ میں فائق حیثیت رکھتے تھے۔ اس لئے نئے میدان میں آتے ہی اسلام کی فکری اور نظریاتی فتح کا سیلاب پھٹ پڑا۔ لوگ جوق در جوق مذہب توحید کے دائرے میں داخل ہو گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader