میدانِ عمل
Urdu book, p. 255
By Maulana Wahiduddin Khan
شکست کھارہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حریف کی طرف سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو وہ فوراً بھڑک کر اس سے لڑ جاتے ہیں۔ اور یہ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ ردعمل کے تحت کی جانے والی لڑائی کا انجام ہمیشہ شکست ہو، اور ردعمل سے اوپر اٹھ کر کئے جانے والے مقابلہ کا انجام ہمیشہ فتح کی صورت میں نکلے۔ جامد گروہ ، توصیعی گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ 2ھ میں حدیبیہ کا معاہدہ کر کے مدینہ کے لئے واپس ہوئے۔ ابھی آپ راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری : انا فتحنا لك فتحا مبینا (فتح 1) یعنی ہم نے تم کو تمہارے مخالفوں کے اوپر کھلی فتح دے دی۔ حدیبیہ کی صلح بظاہر فریق ثانی کی نشر طوں پر کی گئی تھی ، اس لئے جب یہ آیت اتری تو آپ کے اصحاب نے طرح طرح کے سوالات کئے۔ ان میں سے ایک یہ تھا : قال رجل من اصحاب رسول الله صلى الله اصحاب رسول میں سے ایک شخص نے کہا کہ اے خدا عليه وسلم اى رسول الله او فتح هو کے رسول ، کیا وہ فتح ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ قال صلى الله عليه وسلم ای والذی وسلم نے فرمایا ، ہاں ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ نفس محمد بیده انه لفتح میں محمد کی جان ہے ، بے شک وہ فتح ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ، الجزء الرابع ، ۱۸۳) متعدد صحابہ سے مروی ہے کہ انھوں نے بعد کے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو مگر ہم لوگ حدیبیہ کو فتح سمجھتے تھے (صفحہ ۱۸۳) اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیبیہ کے معاہدہ نے اہل اسلام کو تو سیعی گروہ کی حیثیت دے دی۔ اور اہل شرک محض جامد گروہ بن کر رہ گئے ۔ حدیبیہ کے معاہدہ سے پہلے دونوں گروہوں کے درمیان ٹکر آؤ اور مڈ بھیڑ کی فضا تھی۔ اب تک دونوں کی ملاقات صرف میدان مقابلہ میں ہوتی تھی ، صلح کے بعد میدان دعوت میں دونوں کی ملاقات کے مواقع پیدا ہو گئے۔ شرک جہاں تھا وہیں رہا ۔ مگر اسلام ایسی پوزیشن میں آگیا جہاں سے وہ لوگوں کے دلوں میں نفوذ کر سکے۔ جب ایسا ہو کہ ایک گروہ جامد گروہ ہو اور دوسرا گروہ تو سیعی گروہ کی حیثیت حاصل کرلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader