میدانِ عمل
Urdu book, p. 257
By Maulana Wahiduddin Khan
نے اپنے کو تو سیعی گروہ کی حیثیت دے دی۔ اور تو سیعی گروہ کی حیثیت حاصل کرنے ہی کا دوسرا نام غلبہ اور کامیابی ہے۔ تاریخ کا تجربہ اسلام دین کا مل ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اسلام میں اگر ایک طرف نظری طور پر تمام ضروری با تیں بتا دی گئی ہیں ، تو اسی کے ساتھ اسلام کی تاریخ میں ہر قسم کی واضح مثالیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔ تاکہ لوگوں کے لئے اسلامی تعلیمات کا سمجھنا آسان ہو جائے ۔ اسی سلسلہ کی ایک مثال وہ ہے جو شمشیر کی طاقت اور دعوت کی طاقت کے فرق سے تعلق رکھتی ہے۔ صلاح الدین ایوبی کی ذات اسلام کی تاریخ میں " شمشیر " کی طاقت کا نشان ہے۔ انھوں نے مغرب کی عیسائی طاقتوں کو حطین ( شمالی فلسطین ) کے مقام پر فیصلہ کن شکست دی۔ اور دو سو سالہ صلیبی جنگ کا خاتمہ کیا ۔ وہ ۲ اکتوبر ، ۱۱۸۷ء کو دوبارہ یروشلم میں فاتحانہ داخل ہوئے، جو ۸۸ سال سے عیسائیوں کے قبضہ میں پڑا ہوا تھا۔ صلاح الدین ایوبی کا انتقال ۴ مارچ ۱۱۹۳ء کو ہوا۔ اس جنگی ہیرو کے انتقال کے صرف ۲۵ سال بعد تاریخ دوسرا منظر پیش کرتی ہے۔ چنگیز خاں کو یہ جرات ہوتی ہے کہ ۱۲۱۸ء میں وہ ۲۰ ہزار وحشی قبائل کو لے کر مسلم سلطنت ( خوارزم ) پر حملہ کر دے۔ چنگیز خاں اگرچہ جلد ہی گھوڑے سے گر کر ہلاک ہو گیا۔ مگر اس کے جانشین تا تاریوں کی پیش قدمی مسلم دنیا میں بلا روک ٹوک جاری رہی۔ یہاں تک کہ انھوں نے سمر قند سے لے کر بغداد تک پوری مسلم دنیا کو تہس نہس کر ڈالا۔ تا تاریوں کا یہ غلبہ اتنا شدید اور اتنا ہمگیر تھا کہ مسلم دنیا میں یہ کہا جانے لگا کہ : اذ قيل لك ان التترا نهزموا فلا تصدق (اگر تم سے کہا جائے کہ تا تاری شکست کھا گئے تو اس کو نہ ماننا)، تا تاریوں کے اس دہشت خیز طوفان کو کس چیز نے ختم کیا ، اس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ دعوت ہے۔ پچھلے صلیبی حملے سے اگر مسلم دنیا نے شمشیر کی طاقت کے ذریعہ نجات پائی تھی تو تا تاریوں کے شدید تر حملہ سے مسلمانوں نے دعوت کی طاقت کے ذریعہ فتح حاصل کی۔ تا تاریوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے پاس تلوار کی طاقت باقی نہیں رہی تھی، اس لئے زیادہ تر مجبورانہ طور پر نہ کہ شعوری طور پر یہ ہوا کہ انھوں نے تا تاریوں کے درمیان دعوت کا خاموش اور پرامن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader