Urdu book · دین کامل

میدانِ عمل

Urdu book, p. 258

By Maulana Wahiduddin Khan

کام شروع کر دیا۔ تاتاریوں کے پاس اپنی کوئی طاقت اور تہذیب موجود نہ تھی، اس لئے وہ خود بخود مسلم تہذیب سے متاثر ہونے لگے۔ اسی کے ساتھ مختلف طریقوں سے انھیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسلام کا پیغام پہنچنے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اندر ایک نئی فکری تبدیلی شروع ہوگئی۔ چنگیز خاں کے جن تاتاری جانشینوں نے ۱۳ ویں صدی عیسوی کے نصف اول میں اسلام کی سیاسی قوت کو تاراج کیا تھا، انھوں نے اسی صدی کے خاتمہ تک اسلام کی فکری قوت نے مفتوح ہو کر بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیا۔ پروفیسر فلپ ہٹی کے الفاظ میں، مسلمانوں کے مذہب نے وہاں کامیابی حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار نا کام ہو چکے تھے : The religion of the Moslims had conquered where their arms had failed (p. 488). یہاں مزید یہ یاد رکھنا چاہئے کہ صلیبیوں کا حملہ جس پر صلاح الدین ایوبی نے فتح پائی، وہ صرف اپنے مقدس مقام (یروشلم) پر قبضہ کرنے کے لئے تھا، جب کہ تاتاری جن پر دعوت کے ذریعہ فتح حاصل ہوئی، وہ پوری مسلم دنیا کو تاراج کرنے کے لئے اٹھے تھے اور اس میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے تھے ۔ مغل حکمران بابر اسی چنگیز خاں کی نسل سے تھا۔ وہ ۲۶-۱۵۲۶ء میں دہلی میں داخل ہوا۔ یہ اسی کی نسل تھی جو ۷ ۸۵ا تک موجودہ ہندوستان (بھارت) سے بہت زیادہ بڑے ملک پر اسلام کی خادم بنی رہی اسلام کے لئے ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں جن کی تفصیل یہاں بیان کرنے کا موقع نہیں۔ اسی زمانہ میں وہ ترکستانی قبائل اٹھے جن کو سلجوقی ترک یا ترکان غز (Oguz Turkmen) کہا جاتا ہے۔ اپنے ابتدائی زمانہ میں انھوں نے ایران اور اس کے ملحق علاقوں میں زبردست تباہی پھیلائی۔ ان سے مقابلہ کے لئے مسلمانوں کے پاس تلوار کی طاقت موجود نہ تھی۔ کیوں کہ چنگیز خاں اور اس کی نسل (تاتاری) پہلے ہی اس کو آخری حد تک توڑ چکے تھے۔ مغل تاتاریوں کی طرح، ترکان غز کے سلسلہ میں دعوت کی خاموشی اور پر امن طاقت ہی مسلمانوں کے کام آئی۔ تاریخ اگر چہ اس کی تفصیل نہیں بتاتی کہ ترکان غز کے قبائل پر دعوتی کام کس طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page