Urdu book · دین کامل

میدانِ عمل

Urdu book, p. 259

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا گیا۔ تاہم یہ یقینی ہے کہ اسلام کی دعوتی طاقت ہی نے آخر کار انہیں مسخر کیا۔ ان کا مسئلہ صرف اس طرح ختم ہوا کہ وہ اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر مسلمانوں کے دینی بھائی بن گئے۔ پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے مذکورہ بالا دونوں واقعات کا ذکر کسی قدر تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ اپنی کتاب "پریچنگ آف اسلام" میں لکھتے ہیں : اپنے سیاسی زوال کے زمانہ میں اسلام نے اپنی بعض انتہائی شاندار روحانی فتوحات حاصل کی ہیں۔ دو بڑے تاریخی مواقع پر وحشی کافروں نے اپنے پاؤں محمد کے پیرووں کی گردن پر رکھ دئے تھے۔ گیارھویں صدی عیسوی میں سلجوق ترکوں نے اور تیرھویں صدی عیسوی میں مغلوں نے، مگر ہر بار فاتح نے اپنے مفتوح کے مذہب کو قبول کر لیا۔ اسلام کی تاریخ میں ایک ممتاز نام عثمانی ترکوں کا آتا ہے۔ یہ انھیں ترکمان غزن کی اولاد تھے جن کا اوپر ذکر ہوا۔ انھوں نے ترکی میں اس عظیم خلافت کی بنیاد ڈالی جو چھ سو سال تک مسلسل قائم رہی۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد وہ صرف ۱۹۲۲ء میں ختم ہو سکی : یہی عثمانی ترک تھے جنہوں نے ترکی کی وہ عظیم خلافت قائم کی جس کا صدر مقام قسطنطنیہ تھا۔ یہ خلافت پہلی جنگ عظیم تک پوری طاقت کے ساتھ اسلام کی پاسبانی کرتی رہی۔ یہ مدت چھ سو سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ گویا صلاح الدین ایوبی کی ششمیر ی طاقت صرف ۲۵ سال کے لئے اسلام کی پاسبان بنی تھی، مگر اسلام کی دعوتی طاقت چھ سو سال تک اسلام کی عالمی پاسبانی کرتی رہی۔ یہ واقعہ قیامت تک کے لئے اس بات کی نشانی ہے کہ تلوار کے مقابلہ میں دعوت کی طاقت بے شمار گنا حد تک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page