میدانِ عمل
Urdu book, p. 260
By Maulana Wahiduddin Khan
زیادہ ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ "تلوار" کی عظمت کے قصیدے پڑھیں اور دعوت کو ناقابلِ لحاظ سمجھ کر چھوڑ دیں، ان سے زیادہ نادان بلا شبہ اس آسمان کے نیچے اور کوئی نہیں۔ قومی سیاست اسلام ایک قائم شدہ مذہب اور تاریخی طور پر ایک مسلّم حقیقت ہے۔ جب کوئی دین یہ حیثیت حاصل کرلے تو وہ اپنے آپ پھیلنے لگتا ہے۔ چنانچہ دورِ اوّل کے بعد ایک ہزار سال سے بھی زیادہ مدت تک اسلام اپنے آپ پھیلتا رہا ہے۔ اسلام کے پھیلاؤ میں پہلی بار رکاوٹ موجودہ نیشنلزم کے دور میں پیدا ہوئی۔ قدیم زمانہ میں ایک فوج کا دوسری فوج سے ٹکراؤ پیش آتا تھا۔ عام انسانی آبادی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں ایک قوم دوسری قوم سے ٹکراتی ہے۔ اس طرح ٹکراؤ سے بننے والی دوری اور منافرت پوری کی پوری قوم میں پھیل جاتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے دعوت کے اعتبار سے جو سب سے بڑا جرم کیا ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے دوسری قوموں کی تقلید میں اپنی ملی جد و جہد کے لئے "قومی سیاست" کا انداز اختیار کر لیا۔ اس طرح اسلام کی لمبی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ پوری کی پوری قومیں اسلام سے متنفر ہوگئیں۔ مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ قومی سیاست کا اندازِ مکمل طور پر چھوڑ دیں، تاکہ قومی سطح پر پیدا ہونے والی ضد اور نفرت کی فضا ختم ہو اور اسلام کی اشاعتِ عام کا دروازہ کھلے۔ قومی سیاست کا ترک ہماری ملی جد و جہد کا پہلا زینہ ہے، اس کے بغیر ملی جد و جہد سیکڑوں سال میں بھی کسی نتیجہ پر پہنچنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader