حکمت دعوت
Urdu book, p. 261
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمتِ دعوت لكل أمة جعلنا منسكاً هم ناسكوه فلا يناز عنك ہر امت کے لیے ہم نے ایک طریقہ ٹھہرادیا تو وہ اسی فى الامر وادع الى ربك انك لعلى هدى مستقيم طرح عمل کرتے ہیں۔ پس وہ تم سے اس امر میں وان جادلوك فقل الله اعلم بما تعملون - جھگڑا نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ، بیشک الله يحكم بينكم يوم القيامة فيما كنتم فيه تم سیدھی راہ پر ہو۔ اور اگر وہ تم سے جھگڑا کریں تو تختلون - کہو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اللہ (الحج ، ۶۷ - ۶۹) تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے ۔ اس آیت کے شانِ نزول کے سلسلہ میں یہ روایت آئی ہے کہ وہ اس وقت اتری جب کہ مشرکوں ( بدیل بن ورقا ، بشر بن سفیان ، یزید بن خسیس ) نے اہلِ ایمان سے کہا کہ تمہارا کیا حال ہے کہ جس جانور کو تم نے مارا اس کو تم کھاتے ہو اور جس جانور کو خدا نے مارا اس کو تم نہیں کھاتے ، یعنی مردار کو ( نزلت حين قال المشركون للمسلمين مالكم تأكلون ما قتلتم ولا تأكلون ما قتلته الله یعنی الميتبة، تفسير النسفی، الجزء الثالث ، صفحہ ۱۱۰) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرب میں تشریف لائے تو عرب کے لوگ معروف معنوں میں بے دین نہ تھے۔ انھوں نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے نام پر ایک ڈھانچہ اختیار کر رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات اس مذہبی ڈھانچہ سے ٹکراتی تھیں ۔ (مثلاً ان کے مروجہ مذہب میں مردار جائز تھا ، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو حرام بتاتے تھے) اس طرح کے اختلافات کی بنا پر وہ آپ سے بدکتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بزرگوں کے راستہ پر چلنے والا کہتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بزرگوں سے ہٹ کر نیا راستہ نکالا ہے ۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت دی گئی کہ آپ ان ظواہر میں نہ الجھیں ۔ جو لوگ اس قسم کی چیزوں کو لے کر بحث کرنے آئیں ۔ ان سے اعراض کرتے ہوئے اصل صراطِ مستقیم (دعوت الی اللہ) پر قائم رہیں۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنے مدعو کے سامنے ہمیشہ اساسی تعلیمات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader