Urdu book · دین کامل

حکمت دعوت

Urdu book, p. 262

By Maulana Wahiduddin Khan

رکھے ، وہ ظاہری امور اور فروعی اختلافات میں اس سے نہ الجھے ۔ آیت میں فَلَاتُمَارِ فِى الْأَمْرِ کا فقرہ ہے۔ اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اس امر میں وہ تم سے جھگڑا نہ کریں۔ یہاں خطاب کا رخ بظاہر فریق ثانی کی طرف ہے ۔ مگر یہ ایک اسلوب ہے ۔ ورنہ یہاں اصل مخاطب خود فریق اول ہے ۔ یعنی ظاہر کلام کے اعتبار سے مدعو سے کہا جا رہا ہے کہ وہ جھگڑا نہ کریں ۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہاں یہ کہا گیا ہے کہ تم ان سے جھگڑا نہ کرو ۔ عربی میں اگر یہ کہا جائے کہ لَا يُضْرِبَنَّكَ زَیدٌ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ زید کو منع کیا گیا کہ وہ تم کو نہ مارے ۔ بلکہ خود مخاطب سے کہا گیا کہ تم یک طرفہ احتیاط کے ذریعہ اس کی کوشش کرو کہ زید تم کو مارنے نہ پائے : ہانیۃ لہ ثم طرفہ احیاء کے ذریعہ اس کی تو قال الزجاج معنى قوله ( لا ينازعنك ) لا تنازعهم انت - كما يقال لا يخاصمنك فلان - اى لا تخاصمه - وهذا جائز فيما يكون بين اثنين - وذلك لان المنازعة و المخاصمة لا تتم الا باثنين فاذا ترك احدهما ذهبت المخاصمة - ( التفسير المظہری، المجلد السادس ، صفحه ۳۴۴ ) سرة پردہ من حکمنوں اور مصلحتوں کے س کروہ رید تم و مار کے نہ پائے: زجاج نے کہا کہ لا یُنَازِعَنکَ کا مطلب یہ ہے کہ تم خود ان سے نزاع نہ کرو۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے فلاں آدمی تم سے مخاصمت نہ کرے، یعنی تم اس سے مخاصمت کی نوبت نہ آنے دو۔ یہ اس وقت کے لیے ہے جب کہ نزاع دو آدمیوں کے درمیان ہو۔ اس لیے کہ نزاع اور جھگڑا دو آدمیوں کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ پس جب دونوں میں سے ایک شخص نزاع چھوڑ دے تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ اس قرآنی حکم کا واضح مطلب یہ ہے کہ جو شخص خدا کے دین کی دعوت دینا چاہتا ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ دعوت کے ساتھ نزاع کو جمع نہ کرے ۔ داعی اور مدعو کے درمیان اگر نزاع کی فضا ہو تو مدعو کبھی کھلے ذہن کے ساتھ داعی کی بات نہیں سنے گا۔ اس لیے داعی کو یک طرفہ طور پر یہ ذمہ داری لینی پڑتی ہے کہ صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کر کے اپنے اور مدعو کے درمیان معتدل فضا کو باقی رکھے تاکہ مدعو اس کی باتوں پر ہمدردانہ غور کر سکے۔ ہر نزاع ختم ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ایک فریق اس کو بلا شرط ختم کر دے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page