Urdu book · دین کامل

حکمت دعوت

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

اعراض کا اصول اس سلسلہ میں اسلام کی ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کو اعراض کہا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ (۶ھ) کے سفر میں تھے۔ آپ کے ساتھ ڈیڑھ ہنزار اصحاب تھے۔ آپ برابر دشمن کے بارہ میں خبر لیتے رہتے تھے۔ یسر بن سفیان الکعبی نے خبر دی کہ خالد بن الولید ایک فوج لے کر بڑھ رہے ہیں، تاکہ آپ سے ٹکر اؤکریں۔ یہ خبر سن کر آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کون ہے، جو ہم کو ایسے راستہ سے لے چلے جو اس کے علاوہ ہے جس سے وہ لوگ آرہے ہیں (مَنْ رَجُلٌ يُخْرِجُ بِنَا عَلَى طَرِيقٍ غَيْرِ طَرِيقِهِمْ لَتَى هُمْ بِهَا ، ۳۵۰/۴) اس وقت قبیلہ اسلم کا ایک شخص آگے بڑھا جو راستوں سے واقف تھا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول یہ کام میں کروں گا۔ چنانچہ اس نے متعد راستہ کو چھوڑ دیا اور آپ کو اور آپ کے اصحاب کو لے کر ایک پتھریلے اور دشوار گزار راستہ سے روانہ ہوا۔ خالد کا لشکر معروف راستہ سے آپ کی طرف آرہا تھا۔ آپ غیر معروف راستہ سے چل کر آگے پہنچ گئے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ اس کو ایک لفظ میں اصول اعراض (Principle of avoidance) کہا جاسکتا ہے۔ آپ کا اصول یہ تھا کہ ٹکر ائو سے آخری حد تک اعراض کیا جائے۔ جب فریق ثانی کی جارحیت کی بنا پر کوئی اور چارہ کار باقی نہ رہے تو بشرط تیاری اور بقدر ضرورت مقابلہ کیا جائے۔ بدر کا مقابلہ اسی طرح پیش آیا۔ مکہ کے زمانہ قیام میں آپ کے مخالفین آپ کے جانی دشمن ہوگئے اور یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو قتل کر ڈالیں۔ اس وقت آپ ان سے لڑے نہیں بلکہ اعراض کے اصول پر عمل کرتے ہوئے آپ نے اپنے وطن کو چھوڑ دیا اور مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے۔ ہجرت دراصل اعراض ہی کی ایک صورت ہے۔ تانہم آپ کے مخالفین کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ وہ منظم لشکر لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے، اس وقت آپ نے بدر کے مقام پر ان کا مقابلہ کیا۔ احد کی جنگ کا معاملہ بھی یہی تھا۔ یہ جنگ عین مدینہ کی سرحد پر ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش مکہ سے تین سومیل کا فاصلہ طے کر کے مدینہ آئے اور ایک طرفہ طور پر آپ کے اوپر جارحانہ حملہ کیا۔ اس وقت آپ نے اپنے اصحاب کو لے کر ان کا مقابلہ کیا۔ اسی طرح حنین کی جنگ بھی سراسر ایک طرفہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page