Urdu book · دین کامل

حکمت دعوت

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

شکست سے دوچار ہوں گے۔ یہ ایک نہایت نازک صورت حال تھی جس کا نقشہ قرآن ( الاحزاب ۱۰ ) میں ملتا ہے۔ تاہم اب بھی آپ کی نگاہِ اعراض پر ھتی نہ کہ ٹکڑ اوپر ۔ خوش قسمتی سے اس وقت ایک نو مسلم آپ کے پاس آئے وہ ایک معروف آدمی تھے اور ان کا نام نعیم بن مسعود تھا۔ انہوں کہا کہ اے خدا کے رسول ، میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ مگر لوگ ابھی میرے اسلام سے باخبر نہیں۔ اس وقت میرے کرنے کا کوئی کام ہو تو آپ مجھے اس کا حکم دیں۔ آپ نے فرمایا : اِنَّمَا اَنْتَ فِیْنَا رَجُلٌ وَاحِدٌ ۔ فَخَذُلْ عَنَّا تم ہمارے درمیان ایک ہی آدمی ہو۔ پس تم سے اِنْ اِسْتَطَعْتَ ۔ فَاِنَّ الْحَرْبَ خُدْعَةٌ ہو سکے تو ایسی تدبیر کرو کہ وہ ہمارے خلاف ایک ( صفحه ، ۴ / ۲۴ ) دوسرے کی مدد چھوڑ دیں۔ کیوں کہ جنگ دھوکا ہے۔ جب خندق کی آرٹائم کرنے کے باوجود جنگ کا خطرہ ختم نہیں ہوا تب بھی آپ نے جنگ کا منصوبہ نہیں بنایا بلکہ جنگ سے بچنے کے لئے آپ " خدعہ " تک گئے۔ تلوار استعمال کرنے کے بجائے آپ نے تدبیر کا حربہ استعمال فرمایا۔ آپ کا " خدعہ " جنگ سے بچنے کے لئے تھا نہ کہ جنگ میں کو دنے کے لئے۔ آپ کی مذکورہ ہدایت کے بعد نعیم بن مسعود خاموشی کے ساتھ سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے جو کچھ کیا وہ کافی تفصیل کے ساتھ کتابوں میں آیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نعیم بن مسعود پہلے بنو قریظہ کے پاس گئے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ دیکھو، قریش اور غطفان باہر کے لوگ ہیں۔ جنگ میں فتح بھی ہوتی ہے اور شکست بھی۔ اگر شکست ہوئی تو یہ لوگ تو اپنے وطن واپس چلے جائیں گے اور تم یہاں مسلمانوں کے درمیان ان کے رحم وکرم پر ہو گے۔ اس لئے تم اس جنگ میں اس وقت تک شرکت نہ کرو جب تک تم قریش کے کچھ آدمی بطور ضمانت اپنے پاس نہ رکھ لو۔ بنو قریظہ نے کہا کہ تم نے بہت اچھی رائے دی۔ نعیم بن مسعود اس کے بعد قریش کے پاس گئے۔ انہوں نے ان سے دوسری بات کہی۔ ان سے انہوں نے کہا کہ مجھے ایک سخت خبر ملی ہے۔ تمہاری خیر خواہی کے لئے میں نے چاہا کہ وہ خبر تمہیں پہنچا دوں۔ وہ خبر یہ ہے کہ بنو قریظہ محمد ﷺ سے قطع تعلق کرنے پر نادم ہوئے ہیں اور دوبارہ ان سے تعلق جوڑنا چاہتے ہیں۔ اور اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے انہوں نے یہ پیش کش کی ہے کہ وہ قریش کے کچھ افراد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page