Urdu book · دین کامل

حکمت دعوت

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

کو محمد کے حوالے کر دیں گے تاکہ وہ انھیں قتل کر سکیں۔ تمھاری بھلائی کے لئے میں نے یہ خبر تمھیں پہنچادی ہے، اب تم لوگ اپنی تدبیر سوچ لو۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق 10 شوال سنہ ۵ میں سنیچر کی رات کو قریش کے بعض افراد خفیہ طور پر بنو قریظہ کی بستی میں گئے اور ان سے جنگ کا عملی نقشہ طے کرنے کے لئے کہا تو بنو قریظہ نے جواب دیا کہ یہ ایک نازک معاملہ ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ تم یہ یقین دلاؤ کہ تم ہم کو مدینہ میں بے یار و مددگار نہیں چھوڑو گے ۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ تم اپنے کچھ آدمی ہمارے پاس ضمانت کے طور پر رکھ دو۔ اس کے بعد ہم ضرور تمھارے ساتھ مل کر محمدؐ کے خلاف لڑیں گے ۔ قریش اور غطفان کے سرداروں کو جب بنو قریظہ کی یہ شرط معلوم ہوئی تو ان کو یقین ہو گیا کہ نعیم بن مسعود نے انھیں جو خبر دی تھی وہ صحیح تھی۔ دوسری طرف جب قریش اور غطفان اس شرط پر راضی نہیں ہوئے تو بنو قریظہ کو نعیم بن مسعود کا مشورہ بالکل درست معلوم ہوا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف بے اعتمادی پیدا ہوگئی۔ اور اللہ نے دونوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا (خَذَّلَ اللهُ بَيْنَهُم ، ۲۵۰ ) اس کے بعد قریش اور یہود کا اتحاد ٹوٹ گیا۔ مزید یہ واقعہ ہوا کہ اللہ نے تیز آندھی بھیج دی۔ دشمن کے خیمے اکھڑنے لگے ۔ وہ لوگ مایوسی اور گھبراہٹ کے عالم میں ۲۰ دن کے بعد واپس چلے گئے۔ رسول اللہ کی تدبیر بھی جنگ کو روکنے کے لئے تھی، اور اللہ تعالیٰ نے آندھی کی شکل میں جو مدد بھیجی وہ بھی اسی لئے تھی کہ دونوں فریقوں میں جنگ نہ ہونے پائے ۔ غزوہ خندق کا یہ واقعہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جنگ اور ٹکراؤ سے آخری حد تک اعراض کیا جائے۔ حتیٰ کہ جنگ کو ٹالنے کے لئے اگر خدعہ کا طریقہ اختیار کرنا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔ خدعہ کے ذریعہ جنگ کو ٹالنا اس سے بہتر ہے کہ خدعہ نہ کر کے جنگ کا خطرہ مول لیا جائے ۔ خدعہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو اردو میں حیلہ اور انگریزی میں (Trick) کہتے ہیں۔ اس معاملے کی آخری حد یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ کو جنگ اور مڈبھیڑ پسند نہیں۔ یہ ثابت ہے کہ غزوہ خندق کے آخری مرحلہ میں اللہ تعالیٰ نے تیز آندھی بھیجی تاکہ دشمن کی صفیں منتشر ہو جائیں اور وہ گھبرا کر بھاگ کھڑے ہوں۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ آندھی کے بجائے فرشتے بھی بھیج سکتے تھے۔ جو رسول اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page