حکمت دعوت
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
اصحاب رسول کی طرف سے ان کے دشمنوں سے لڑیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کے موقع پر کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس قسم کا معاملہ بار بار نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ جنگی مدد کے لئے فرشتے صرف ایک بار، خاص مصلحت کے تحت ، غزوہ بدر میں اترے تھے۔ اس کے بعد وہ نہیں اترے۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ فرشتے جنگ بدر کے سوا کسی اور موقع پر نہیں لڑے۔ (قال لم تقاتل الملائكة اليوم بدر) دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ فرشتوں نے جنگ بدر کے سوا کسی اور موقع پر تلوار نہیں ماری (لم تضرب الملائكة في يوم سوى يوم بدر) تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول ، صفحه ۲۰۴ فرشتوں کی شرکت کے اعتبار سے جنگ بدر کی حیثیت عموم کی نہیں، بلکہ استثناء کی ہے۔ عمومی طور پر اللہ کو یہی پسند ہے کہ جنگ سے اعراض کیا جائے۔ مگر بدر کے موقع پر مخصوص اسباب کے تحت فرشتوں کی مدد بھیج کر اہل اسلام کو اہل کفر سے ٹکرایا گیا۔ تاہم اس قسم کا واقعہ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں صرف ایک بار ہوا۔ اس کے بعد پھر اسے دہرایا نہیں گیا۔ گویا خدا کے منصوبہ میں جنگ ایک بار کے لئے تھی اور اعراض کی تدبیر ہر بار کے لئے۔ اعراض کے اصول کو مجرد طور پر دیکھئے تو اس کی معنویت پوری طرح سمجھ میں نہیں آئے گی۔ مگر جب اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بقیہ زندگی سے ملا کر دیکھا جائے تو اس کی بے پناہ معنویت فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اعراض کا اصول وہ اہم تدبیر ہے جس کو ایک با مقصد انسان اپنے مقصد پر مسلسل قائم رہنے کے لئے ہمیشہ اختیار کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک اہم ترین مقصد تھا جس میں آپ رات دن مصروف رہتے تھے۔ یہ مقصد تھا : اللہ کے بندوں تک اللہ کے پیغام کو پہنچانا ، اللہ کے بندوں کو اللہ کی رحمت کے سایہ میں لے آنا۔ اس عظیم مقصد کا تقاضا تھا کہ آپ ہر اس مشغولیت سے دور رہیں جو آپ کو دعوت الی اللہ کے راستہ سے ہٹا دینے والا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہمیشہ ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش کرتے رہے کیوں کہ ٹکراؤ کی فضا دعوت کی فضا کی قاتل ہے۔ ٹکراؤ پیش آنے کے بعد دعو اچانک حریف اور رقیب کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اور حریف اور رقیب کے اور معتدل انداز میں دعوت کا کام نہیں کیا جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader