Urdu book · دین کامل

حکمت دعوت

Urdu book, p. 268

By Maulana Wahiduddin Khan

داعی کا اخلاق داعی کے دل میں اپنے مدعو کے لئے بے پناہ شفقت ہوتی ہے۔ وہ مدعو کی ہدایت کا حریص بن جاتا ہے۔ یہ چیز اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ مدعو کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کرے ۔ داعی کے اخلاق کو ایک شخص نے ایک جملہ میں اس طرح بیان کیا ہے - خدا تجارت کو اپنا مبلغ بناتا ہے : God is making commerce his missionary یہ الفاظ داعی کے اخلاق کو بہت خوبی کے ساتھ واضح کر رہے ہیں۔ داعی کا اخلاق وہی ہوتا ہے جو تاجر کا اخلاق ہوتا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ داعی کا اخلاق خدائی محبت کے جذبہ سے ابتلاہے اور تاجر کا اخلاق مادی فائدے کے جذبہ سے ۔ تاجر آخری حد تک اپنے گاہک کی رعایت کرتا ہے ۔ وہ گاہک کی طرف سے پیش آنے والی ناگواریوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتا ہے، تاکہ گاہک سے اس کا سودا ہو سکے، تاکہ گاہک کے ساتھ اس کا معاملہ بگڑنے نہ پائے۔ اسی طرح داعی بھی اپنے مدعو کی آخری حد تک رعایت کرتا ہے ۔ وہ مدعو کی زیادتیوں کو نظر انداز کرتا ہے تا کہ وہ اس سے متوحش نہ ہو۔ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا کا ہونا لازمی طور پر ضروری ہے ۔ اور داعی یک طرفہ طور پر یہ ذمہ داری لیتا ہے کہ وہ اس فضا کو ڈسٹرب نہ ہونے دے گا۔ داعیانہ اخلاق کا یہ تصور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کے عین مطابق ہے اور اسی طرح اسلام کی تعلیمات کے مطابق بھی ۔ مسیحی تعلیم یہاں ہم حضرت مسیح علیہ السلام کے ایک وعظ کے چند الفاظ نقل کرتے ہیں۔ متی کی انجیل میں آپ کا ایک وعظ ان الفاظ میں آیا ہے : " تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت ۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کرتا لینا چاہے تو چغہ بھی اسے لے لینے دے ۔ اور جو کوئی تجھے ایک کوس بے کار میں لے جائے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا ۔ جو کوئی تجھ سے مانگے اسے دے اور جو تجھ سے قرض چاہے اس سے منہ نہ موڑ۔ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت رکھ اور اپنے دشمن سے عداوت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page