Urdu book · دین کامل

حکمت دعوت

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ آپ اس کو مطمئن کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ آپ اپنی تنہائیوں میں اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔ آپ اس سے جو بات کہتے ہیں حکمت کے ساتھ کہتے ہیں ۔ آپ اس کے مزاج کی پوری رعایت کرتے ہیں۔ آپ اس کی طرف سے پیش آنے والی ناگواریوں کو برداشت کرتے ہیں۔ آپ آخری حد تک یہ کوشش کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ آپ کا ٹکراؤ پیش نہ آئے تاکہ آپ کے اور اس کے درمیان کہنے سننے کا ماحول بگڑنے نہ پائے۔ اعراض داعی کی ایک اہم صفت قرآن میں اعراض بتائی گئی ہے۔ مثلاً ایک جگہ ارشاد ہوا ہے کہ جاہلوں سے اعراض کرو ( واعض عن الجاهلين ، الاعراف ) اعراض وہ عمل ہے جو داعی کو کرنا ہے۔ اعراض کا مطالبہ داعی سے کیا گیا ہے ، مدعو سے اس کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔ گویا یہ وہ عمل ہے جو داعی کو یک طرفہ طور پر کرنا ہے۔ اعراض کے وہی معنی ہیں جس کو انگریزی میں اوائڈ کرنا کہا جاتا ہے۔ یعنی فریق ثانی کی بات کا اثر لیے بغیر اس کو نظر انداز کر دینا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا کو باقی رکھنے کی ذمہ داری یک طرفہ طور پر داعی کو قبول کرنا ہے۔ مدعو کا رویہ خواہ جو بھی ہو ، داعی کو بہ ہر حال اپنے مثبت رویہ پر قائم رہنا ہے۔ داعی کو رد عمل کی نفسیات سے آخری حد تک بچنا ہے۔ داعی کو مدعو کے لیے خیر خواہانہ روش کو نہیں چھوڑنا ہے ، خواہ مدعو بظاہر اس کا بد خواہ کیوں نہ ہو جائے ۔ ایک مثال موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین میں سے ایک مولانامحمد الیاس صاحب (۱۸۸۶ - ۱۹۴۴ء) ہیں ان کے اندر خالص دعوت کا مزاج تھا ۔ ان کا ایک واقعہ دعوتی اخلاق کو بہت اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ مولانا محمد الیاس صاحب نے بیسویں صدی کے ربع اول میں میوات میں تبلیغ کا کام شروع کیا۔ میوات کے لوگ اس وقت جاہل اور ان گڑھ تھے ۔ مولانا الیاس صاحب وہاں گئے۔ ایک روز وہ ایک میواتی کو کلمہ اور نماز کی اہمیت بتا رہے تھے ۔ اس گفتگو کے دوران وہ میواتی کسی بات پر بگڑ گیا اور مولانا الیاس صاحب کو زور سے دھکا دے دیا۔ مولانا الیاس صاحب زمین پر گر پڑے۔ تاہم وہ میواتی کی بدسلوکی پر غصہ نہیں ہوئے۔ وہ خاموشی سے دوبارہ اٹھے اور اپنے کپڑے کی گرد جھاڑتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page