Urdu book · دین کامل

تعمیر ملّت

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

بلند نظری انگریزی کی ایک مثل ہے ــ طوفان کی بڑی چڑیا : The big bird of the storm یہ مثل سرد ملکوں میں آنے والے طوفان سے بنی ہے ۔ یہ طوفان جب اٹھتے ہیں تو تمام چڑیاں ان کی زد میں آ جاتی ہیں ۔ چھوٹی چڑیاں بھی اور بڑی چڑیاں بھی۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ بڑی چڑیاں بچ جاتی ہیں اور چھوٹی چڑیاں طوفان میں پھنس کر ہلاک ہو جاتی ہیں۔ چھوٹی چڑیوں اور بڑی چڑیوں میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ بڑی چڑیاں قومی بازو والی ہوتی ہیں ۔ وہ طوفان آتے ہی اس سے بچنے کے لیے اوپر کی طرف اڑتی ہیں۔ چونکہ طوفان کی ایک حد ہوتی ہے ۔ اس کا اثر زمین کی سطح سے ایک خاص اونچائی تک ہوتا ہے ۔ اس لیے قومی بازو والی چڑیاں اڑکر اس حد سے اوپر نکل جاتی ہیں ۔ اور اس طرح وہ اپنے آپ کو بچا لیتی ہیں ۔ اس کے برعکس چھوٹی چڑیاں کمزور ہوتی ہیں ۔ ان کے بازو اتنے قومی نہیں ہوتے ۔ اس بنا پر ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اڑ کر طوفان کی حد سے باہر نکل جائیں۔ چنانچہ وہ طوفان میں گھر کر ہلاک ہو جاتی ہیں ۔ موجودہ دنیا میں انسان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ اس دنیا میں ہمیشہ طرح طرح کے ناخوش گوار حالات پیش آتے ہیں ۔ ایک شخص یا قوم کو دوسرے شخص یا قوم سے مختلف قسم کی شکایتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ ایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہ کو اپنی زد میں لے لیتا ہے ۔ اب دو صورتیں ہیں ۔ جو لوگ حالات سے باہر آ کر نہ سوچ سکیں ، جو لوگ قریبی تجربات سے اوپر اٹھ کر اپنا منصوبہ نہ بنا سکیں وہ گویا طوفان کی چھوٹی چڑیا ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہی مقدر رہے کہ وہ دوسروں کے اٹھائے ہوئے طوفان میں گھر کر ہلاک ہو جائیں ۔ وہ مقابلہ کی اس دنیا میں زندگی کے حق سے محروم رہیں ۔ دوسری قسم ان انسانوں کی ہے جو گو یا طوفان کی بڑی چڑیا ثابت ہوتے ہیں۔ وہ حالات سے اوپر اٹھ کر سوچتے ہیں ۔ وہ وقت پر ناخوش گوار یوں سے بلند ہو کر زندگی کے وسیع تر رمانت سے پہلے پوپائی عادل کا کردار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page