Urdu book · دین کامل

تعمیر ملّت

Urdu book, p. 284

By Maulana Wahiduddin Khan

دائروں کو دیکھ لیتے ہیں۔ ان کی سوچ متاثر سوچ (Conditioned thinking) نہیں ہوتی بلکہ غیر متاثر سوچ ہوتی ہے ۔ وہ رد عمل کی نفسیات سے محفوظ رہ کر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ ماضی اور حال موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ طوفان کی چھوٹی چڑیا ثابت ہوئے ، وہ طوفان کی بڑی چڑیا ثابت نہ ہوسکے ۔۔ یہی ان کے تمام مسائل کا آغاز ہے ، اور یہی ان کے تمام مسائل کا اختتام بھی ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے صرف دو قسم کی باتیں لکھنے اور بولنے میں مشغول ہیں ۔ ماضی کے بارے میں فخر اور حال کے بارے میں شکایت ۔ حالاں کہ نہ وہ ماضی بے سبب تھا اور نہ یہ حال بے سبب ہے ۔ مسلمانوں نے ماضی سے فخر کی غذا لی اور حال سے شکایت کی غذا ۔ مگر یہ دونوں ہی یکساں طور پر غلط ہیں ۔ لینے کی اصل چیز سبق ہے اور یہی وہ چیز ہے جس سے آج کا مسلمان مکمل طور پر محروم ہے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اصل سبب پر غور کریں ۔ وہ ماضی پر فخر کرنے کے بجائے یہ سوچیں کہ اس پر فخر ماضی کی تعمیر ہوئی تو کس طرح ہوئی ، وہ بنا تو کس طرح بنا۔ اسی طرح حال کے بارے میں انھیں اپنی سوچ کو بدلنا چاہیے ۔ دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ موجودہ زمانہ میں یہ کیسے ممکن ہوا کہ دوسرے لوگ ان پر غالب آجائیں۔ اور ان پر وہ کچھ کرنے لگیں جس کو مسلمان ظلم سے تعبیر کرتے ہیں ۔ سوچنے کی بات دراصل یہ ہے کہ مسلمان جو پہلے دوسروں کے مقابلہ میں غالب حیثیت رکھتے تھے وہ دوسروں کے مقابلہ میں مغلوب کیسے ہو گئے ۔ مسلمان اگر غیر جانبداری کے ساتھ سوچیں تو وہ پائیں گے کہ ماضی اور حال دونوں کا واضح سبب موجود ہے اور اس سبب کا سرا خود مسلمانوں کے اندر ہے نہ کہ ان کے باہر ۔ یہ سبب ایک لفظ میں یہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے پانے کی قیمت ادا کی اس لیے انھوں نے پایا۔ اس کے برعکس ہم نے پانے کی قیمت ادا نہیں کی اس لیے ہم حقائق کی اس دنیا میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page