تعمیر ملّت
Urdu book, p. 285
By Maulana Wahiduddin Khan
پانے سے محروم رہے ۔ ہمارے اسلاف نے صبر کا ثبوت دیا تھا ، ہم بے صبری کا ثبوت دے رہے ہیں ۔ انھوں نے اپنے آپ کو دنیا والوں کے لیے نفع بخش ثابت کیا تھا ، ہم دنیا والوں کے لیے صرف بوجھ بنے ہوئے ہیں ۔ ان پر طوفان آئے تو وہ طوفان کی بڑی چڑھیا ثابت ہوئے ، اس کے برعکس ہمارے اوپر طوفان آئے تو ہم نے اس کے سوا اور کچھ ثابت نہیں کیا کہ ہم طوفان کی چھوٹی چڑھیا ہیں۔ اور قدرت کا یہ قانون ہے کہ جو شخص یا گروہ اپنے آپ کو طوفان کی چھوٹی چڑھیا ثابت کرے اس کے لیے ہلاکت کے سوا کوئی اور انجام اسباب کی اس دنیا میں مقدر نہیں ۔ ہار میں جیت یہ دنیا خدا نے بنائی ہے ۔ اور اس کے بنائے ہوئے قانون ہی پر اس دنیا کا نظام چل رہا ہے ۔ اس قانون کے معاملہ میں پیغمبر اور پیغمبر کے اصحاب کا استثناء بھی ممکن نہ ہو سکا پھر ہمارا استثناء کیسے ممکن ہو سکتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے مکہ میں یک طرفہ طور پر ظالموں کے ظلم کو سہا ۔ انہوں نے ان کے خلاف شکایت اور احتجاج کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے زیادہ مجبور کیا تو وہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گیے ۔ اس معاملہ میں ان کا صبر اتنا بڑھا ہوا تھا کہ مکہ میں چھوٹی ہوئی جائیدادوں کو فتح مکہ کے بعد بھی واپس نہیں لیا گیا ۔ مکہ پر اسلامی اقتدار قائم ہونے کے بعد بھی ان کو غاصبوں سے واپس لینے کا مسئلہ نہیں کھڑا کیا گیا ۔ دشمنوں کے ہر قسم کے مظالم کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یکطرفہ شرائط پر صلح کر لی جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے ۔ حدیبیہ کے موقع پر دشمنوں نے جن جن شرائط پر اصرار کیا وہ سب آپ مانتے چلے گیے ۔ حدیبیہ کا صلح نامہ لکھا جانے لگا اور آپ کے نام کے ساتھ رسول اللہ کا لفظ لکھا گیا تو دشمنوں نے کہا کہ ہم اس لفظ کو پسند نہیں کرتے اس لیے آپ صرف محمد بن عبداللہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader