Urdu book · دین کامل

تعمیر ملّت

Urdu book, p. 286

By Maulana Wahiduddin Khan

لکھیے ، محمد رسول اللہ مٹ لکھیے ۔ آپؐ نے ان کی ضد کو مان لیا اور رسول اللہ کا لفظ صلح نامہ سے مٹا دیا۔ بیت اللہ کی زیارت اور عمرہ ہر آدمی کا ایک مسلمہ حق تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مطابق عمرہ کرنے جارہے تھے مگر دشمنوں نے کہا کہ ہم آپ کو عمرہ نہیں کرنے دیں گے۔ آپؐ نے ان کی اس ضد کو بھی مان لیا اور اپنے اصحاب سمیت عمرہ کیے بغیر واپس چلے گئے۔ صلح حدیبیہ کی تمام دفعات بظاہر شکست کی دفعات تھیں مگر آپ نے ان سب دفعات کو مان لیا اور ان پر اپنی تصدیق کی مہر لگا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اس لیے نہیں کیا کہ خدا نخواستہ اسلام کو ہمیشہ کے لیے ذلت اور شکست کے گڑھے میں ڈال دیں۔ آپ نے ایسا اس لیے کیا کہ اسلام کو ہمیشہ کے لیے ذلت اور شکست کے گڑھے سے نکالیں۔ یک طرفہ شرائط پر یہ صلح اس لیے کی گئی تاکہ حالات معتدل ہوں اور تعمیری کام کے لیے پرسکون موقع مل سکیں ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ صلح کے بعد زبردست تعمیری کام شروع ہو گیا۔ آپ کے صبر اور آپ کی عالی ہمتی کا یہ نتیجہ ہوا کہ صرف چند سال میں پورا عرب مسخر ہو گیا ، دشمنوں نے کاغذ پر ہار کے الفاظ لکھوائے تھے مگر تاریخ میں وہ جیت کے الفاظ بن کر لکھے گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تاریخ میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے ۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں دشمن کے ظلم کو سہنا پڑتا ہے تاکہ ہمیشہ کے لیے دشمن کے ظلم سے نجات حاصل ہو۔ اس دنیا میں دشمن کی شرطوں کو ماننا پڑتا ہے تاکہ دشمن سے اپنی شرطوں کو منوایا جاسکے۔ اس دنیا میں رسول اللہ کا لفظ اپنے ہاتھ سے مٹانا پڑتا ہے تاکہ وہ زیادہ شان کے ساتھ دوبارہ صفحہ تاریخ پر لکھا جائے ۔ اس دنیا میں اپنے جائز حق سے دستبردار ہونا پڑتا ہے تاکہ مزید اضافہ کے ساتھ اپنا حق وصول کیا جا سکے۔ اس دنیا میں اپنے آپ کو شکست پر راضی کرنا پڑتا ہے تاکہ از سر نو فتح کا دروازہ کھل سکے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن حقیقتوں کی خبر دی ہے ان میں سے ایک حقیقت یہ ہے کہ جو شخص تواضع اختیار کرے اللہ اس کو بلند کرتا ہے (من تواضع رفعه الله) جب اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے تو وہ لوگ کیسے اوپر اٹھائے جاسکتے ہیں جو جھکنے کے لیے تیار نہ ہوں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page