تعمیر ملّت
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
حصّہ دوم قرآن میں تمام حقیقتوں کی تفصیل ( الانعام ۱۱۴) بیان کی گئی ہے ۔ اسی طرح قرآن میں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا راز کیا ہے ۔ یہ راز ہے نفع بخشی ۔ یعنی دوسروں کے لیے نفع بخش بننا ۔ اس دنیا میں اسی شخص یا قوم کو باعثِ جگہ ملتی ہے جو نفع بخشی کا ثبوت دے ۔ جو شخص یا قوم نفع بخشی کا ثبوت نہ دے اس کو دنیا اسی طرح رد کر دیتی ہے جس طرح دودھ سے مکھی نکال کر پھینک دی جائے ۔ زندگی کا یہ اصول قرآن کی حسب ذیل آیت میں ملتا ہے : انزل من السماء ماء فسالت او دية بقدرها فاحتمل السيل زبد اً را بياً ومما يوقدون عليه في النار ابتغاء حلية اومتاع زبد مثله کذالک يضرب الله الحق والباطل فاما الزبد فيذهب جفاءً واما ماينفع الناس فيمکث في الارض كذالك يضرب الله الامثال (الرعد ١٧) اس آیت میں ایک زبردست مثال بیان اللہ نے آسمان سے پانی اتارا ۔ پھر نا لے اپنی مقدار کے موافق بہہ نکلے ۔ پھر سیلاب خس و خاشاک کو بہالايا جو پانی کے اوپر ہے ۔ اور جن چیزوں کو آگ میں زیور اور سامان کے لیے تپاتے ہیں ان کے اوپر ایسا ہی میل کچیل آجاتا ہے ۔ اللہ اسی طرح صحیح اور غلط کو بیان کرتا ہے ۔ پس جو میل کچیل تھا وہ پھینک دیا جاتا ہے ۔ اور جو چیز لوگوں کے لیے کارآمد ہے وہ زمین میں رہ جاتی ہے ۔ اللہ اسی طرح بیان کرتا ہے مثالیں ۔ اس آیت میں ایک مادی تمثیل کے ذریعہ انسانی زندگی کا اصول بتایا گیا ہے۔ مادی دنیا میں یہ واقعہ مشاہدہ میں آتا ہے کہ سیلاب میں یا تپانے کے وقت مفید چیز ( پانی یا دھات ) اپنی جگہ رہ جاتی ہے اور جھاگ اور میل بے قیمت چیز کی طرح دور ہو جاتے ہیں۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا ہے۔ یہاں بھی اس شخص یا گروہ کو مقام ملتا ہے جو اپنے آپ کو مفید ثابت کرے۔ جو شخص یا گروہ وہ اپنی افادیت کھودے اس کو تاریخ اپنے کوڑا خانہ میں ڈال کر آگے بڑھ جاتی ہے ۔ پوری تاریخ اس قرآنی بیان کی تائید کرتی ہے ۔ اسپین میں مسلمان ۹۲ ھ میں داخل ہوئے اور ۸۹۰ ھ میں اسپین سے مسلم حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اس خاتمہ کی اصل وجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader