تعمیر ملّت
Urdu book, p. 294
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان علم و فن میں اتنا زیادہ آگے تھے کہ ہر معاملہ میں ان کی تقلید کی جاتی تھی حتی کہ کلمۂ شہادت کے معاملہ میں بھی ۔ مسلمانوں نے فن طب ابتداً یونانیوں سے لیا۔ مگر اس کے بعد انھوں نے اپنی محنت سے اس میں اتنے زیادہ اضافے کیے کہ وہ اس زمانہ میں فن طب کے امام بن گئے ۔ ابن سينا (Avicenna) کے بارے میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) میں یہ الفاظ درج ہیں۔ اس کی کتاب القانون فی الطب جوکہ طب کی تاریخ میں انتہائی مشہور کتابوں میں سے ہے ؛ — the Canon of medicine, which is among the most famous books in the history of medicine (I/681). سسلی کا بادشاہ راجر دوم (۱۱۵۳ - ۱۰۹۵ء) اپنے زمانہ کا ایک ممتاز یورپی بادشاہ تھا۔ اس کو یہ شوق ہوا کہ ایک عالمی نقشہ تیار کرائے جس میں اس کی سلطنت کی جائے وقوع دکھایا گیا ہو۔ اس نقشہ کو تیار کرنے کے لیے اس وقت جو سب سے زیادہ لائق شخص سسلی کے بادشاہ کو مل سکتا وہ الادریسی تھا۔ الادریسی مراکش میں پیدا ہوا۔ اس نے اسپین کی مسلم درسگاہوں میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ ایشیاء ، افریقہ، اور یورپ کے سفر کرتا رہا ۔ وہ اپنے زمانہ میں جغرافانیہ کا سب سے بڑا عالم تھا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹا نیکا (۱۹۸۴ء) نے الادریسی کے بارے میں حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں ! شاہ راجر دوم سسلی کا نارمن بادشاہ تھا۔ الادریسی اس کا قریبی دوست اور مشیر تھا۔ الادریسی نے سسلی کے اس بادشاہ کے دربار میں سرکاری جغرافیہ نویس کے طور پر کام کیا۔ راجر دوم نے الادریسی کو بلایا تھا کہ وہ اس کے لیے دنیا کا ایک نقشہ تیار کرے ۔ موجودہ مسلمان یہ قدیم زمانہ میں مسلمانوں کا حال تھا ۔ مگر آج صورت حال اس کے برعکس ہے ۔ آج مسلمان ساری دنیا میں دوسروں کے لیے بوجھ (Liability) بنے ہوئے ہیں ۔ وہ آج کی دنیا میں لوگوں کے لیے سرمایہ (Asset) کی حیثیت سے باقی نہیں رہے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader