Urdu book · دین کامل

جدید امکانات

Urdu book, p. 343

By Maulana Wahiduddin Khan

اسپین میں مسلمانوں نے ۸ سو سال تک حکومت کی۔ پھر ان کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر عیسائیوں نے ان کو مغلوب کر لیا ۔ اس کے بعد عیسائیوں نے ایک ایک مسلمان کو یا تو قتل کر دیا یا اسپین سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اسپین سے ہر مسلم نشان کو بالکل مٹا دیا گیا ۔ ۱۹۸۵ء میں عبد الرحمن الداخل کی وفات کو بارہ سو سال پورے ہوئے ہیں ۔ اس مناسبت سے اس سال المونیکر (اسپین) میں اس عرب حکمران کی ۱۲۰۰ سو سالہ برسی منائی گئی ۔ یہ مقام سمندر کے کنارے غرناطہ سے قریب ہے۔ غرناطہ اسپین کی آخری مسلم سلطنت کی راجدھانی تھا ۔ اس تاریخی تقریب میں اسپین کے ممتاز افراد اور عرب کے علما اور سفر ار شریک ہوئے ۔ اس کی صدارت اسپین کی ملکہ صوفیا نے کی۔ عبد الرحمن الداخل نے اسپین میں ۳۲ سال تک حکومت کی ۔ اور پھر اسی ملک میں اس کا انتقال ہوا۔ اس تقریب کے موقع پر جو مختلف کارروائیاں ہوئیں ان میں سے ایک کارروائی یہ تھی کہ عبد الرحمن الداخل کا ایک بہت بڑا اسٹیچو تیار کیا گیا اور اس کو المونیکر میں سمندر کے کنارے ایک پُر فضا مقام پر لگایا گیا ۔ اس اسٹیچو کا فوٹو ماہنامہ العربی (جون (۱۹۸۵) میں شائع ہوا ہے۔ اسٹیچو میں عبد الرحمن الداخل اپنے داہنے ہاتھ میں تلوار لیے ہوئے کھڑا ہے اور پر اعتماد چہرے کے ساتھ اسپین کی سرزمین کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ اسٹیچو کے نیچے العربی نے یہ الفاظ لکھے ہیں : تمثال عبد الرحمن الداخل فى المنكب من الخلف یعنی المونیکر میں عبد الرحمن الداخل کے اسٹیچو کی تصویر پیچھے کی طرف سے ۔ اسپین میں مسلمانوں کی حکومت آخری طور پر ۱۴۹۲ء ( ۸۹۷ھ) میں ختم ہوئی ۔ اس کے بعد وہاں کی عیسائی حکومت نے مسلمانوں پر سخت ترین مظالم شروع کیے ۔ مسلمان یا تو اسپین سے بھاگ گئے یا انہیں قتل کر دیا گیا ۔ ۸۰۰ سو سالہ حکومت کے بعد اسپین سے ایک ایک مسلمان کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے اسپین سب سے بڑا مسلم دشمن ملک بنا ہوا تھا ۔ اب اسی ملک میں ۱۹۸۵ء میں یہ واقعہ ہوتا ہے کہ وہاں قدیم مسلم فاتح کی یاد منائی جاتی ہے۔ اور اس کی مستقل یادگاریں قائم کی جاتی ہیں ۔ ایسا ہونا ایک بے حد غیر معمولی بات ہے ۔ یہاں گویا ایک ختم شدہ تاریخ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ۔ تاریخ کے مٹے ہوئے صفحات دوبارہ انہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page