Urdu book · دین کامل

اسلامی دور

Urdu book, p. 359

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک تنبیہ گوا کے سابق گورنر ڈاکٹر گوپال سنگھ نے ۳۰ جنوری ۱۹۸۸ کو بمبئی میں ایک لیکچر دیا۔ یہ معین الدین حارث میموریل کا ساتواں لیکچر تھا جس کا نظم انجمن اسلام نے کیا تھا۔ لیکچر کا عنوان تھا: Prophet Muhammad — his life and his mission ڈاکٹر گوپال سنگھ نے اپنے لیکچر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات، ہندوستان ٹائِمْس (۳۱ جنوری ۱۹۸۸) کی رپورٹ کے مطابق یہ تھی کہ مسلمان آج جن مسائل سے دو چار ہیں ان کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ انھیں جاننا چاہئے کہ ماضی میں وہ کتنی بلندی پر پہنچے تھے اور آج وہ کتنا نیچے گر گئے ہیں۔ وہ لوگ جنھوں نے آدھی دنیا پر اقلیت کے باوجود حکومت کی، وہ آج ہندوستان میں اقلیت میں ہونے پر خوف زدہ ہیں : They have to reflect how high they had soared in the past and how low they have fallen today. The people who ruled half the world as a minority are afraid of being a minority in India (p. 8). ڈاکٹر گوپال سنگھ نے مزید کہا کہ آج کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ سیکولرزم کے تصور کو اپنے مذہب کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں ، حالانکہ یہ اسلام ہی ہے جس نے انسانیت کو یہ قیمتی عطیہ دیا تھا : A faith is today afraid of the concept of secularism, which is its own gift to humanity (p. 8). ڈاکٹر گوپال سنگھ کی یہ تنبیہ بالکل درست ہے۔ سیکولرزم کا مطلب مذہب دشمنی نہیں بلکہ صرف مذہبی نا طرف داری ہے۔ یعنی یہ اصول کہ ریاست مذہب کے بارہ میں غیر جانب دار رہے گی۔ بالفاظ دیگر ، ہر مذہب کے لئے یکساں آزادی کا دوسرا نام سیکولرزم ہے۔ اس اعتبار سے سیکولرزم ختم فتنہ کے انقلاب کا براہ راست نتیجہ ہے جو اسلام نے عالمی سطح پر پیدا کیا۔ سیکولرزم کا مطلب ویبسٹر ڈکشنری میں "سیکولرزم" کا مطلب یہ بتایا گیا ہے کہ یہ عقیدہ ہے کہ مذہب کو ریاست

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page