Urdu book · دین کامل

اسلامی دور

Urdu book, p. 360

By Maulana Wahiduddin Khan

حکومت کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہئے : the belief that religion should not enter into the functions of the state. یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے بعد سیکولرزم کا یہ نظریہ تیزی سے پھیلا۔ جو لوگ اس کے وکیل تھے وہ زیادہ تر اس لئے اس کے حامی بنے تھے کہ سابقہ مسیحی تجربہ کی بنا پر ان کا خیال تھا کہ ریاستی امور میں مذہب کی مداخلت کو بند کرنے کے بعد وہ زیادہ تیزی کے ساتھ تمدنی ترقی کر سکیں گے۔ تاہم عیسائی حضرات نے یہ غلطی کی کہ انھوں نے سیکولرزم کو مخالف مذہب (Anti-religious) نظریہ سمجھ لیا اور اس کی شدید مخالفت کی۔ اگر چہ بیسویں صدی میں ان کی مخالفت بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے۔ سیکولرزم کو مخالف مذہب قرار دینے کی ذمہ داری زیادہ تر مسیحی علما پر ہے نہ کہ خود نظریۂ سیکولر زم پر۔ سیکولرزم کے ابتدائی مبلغین زیادہ تر سیکولرزم کے اس پہلو پر زور دیتے تھے کہ مذہب کو ریاست کے معاملات میں دخل دینے کا حق نہیں۔ مگر یہ شدت در اصل مسیحیت کے رد عمل کا نتیجہ تھی۔ جب مسیحیت کا زور ٹوٹ گیا تو اس کے بعد سیکولرزم کے مبلغین زیادہ تر سیکولرزم کے اس پہلو کی تاکید کرنے لگے کہ ریاست اور حکومت کو مذہب کے معاملہ میں دخل اندازی سے الگ رہنا چاہئے۔ سیکولرزم کی اصل حقیقت یہی ہے۔ سیکولرزم حقیقتاً مذہب کے خلاف نہیں بلکہ طاقت کے خلاف ہے۔ اس اعتبار سے وہ مذہب کے دعوتی عمل کے لئے ایک عظیم الشان تحفہ ہے۔ اس کو مخالف مذہب سمجھنا ایک وقت دونوں چیزوں سے بے خبری کا نتیجہ ہے ۔___________ دعوت سے بھی اور سیکولرزم سے بھی۔ ہندوستان کی حالت بعض نادان لوگوں کے خیال کے برعکس، ہندوستان میں غلبہ کفر کی حالت نہیں ہے بلکہ غلبہ سیکولرزم کی حالت ہے۔ سیکولرزم کی علمی تعریف اگر چہ بہت زیادہ واضح نہیں، تاہم انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھیکس میں اس کی جو تعریف کی گئی ہے وہ اس کے عمومی مفہوم سے بہت قریب تر ہے۔ اس میں سیکولرزم (Secularism) کے مقالہ کے تحت درج ہے کہ مذہبی علم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page