Urdu book · دین کامل

اسلامی دور

Urdu book, p. 362

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کہ وہ شخص جو ظلم کرے یا جرم کا مرتکب ہو۔ اور اللہ اس شخص کا حامی ہے جو وعدہ پورا کرنے والا اور پرہیزگار ہو اور محمد اللہ کے رسول بھی اس کے حامی ہیں۔ سیرت ابن ہشام ، الجز د الثانی ، ۱۲۳-۱۲۱ اسلامی نقطۂ نظر سے یہود کافر تھے۔ اس کے باوجود مذکورہ صحیفہ ( دستور) میں انھیں مسلمانوں کے ساتھ ایک قوم تسلیم کیا گیا ہے ( امّۃ مع المومنین) نیز یہ اعلان کیا گیا کہ یہود کو اپنے دین کی آزادی ہوگی ( للیہود دینھم وللمسلمین دینھم) یہ عین وہی حق ہے جو موجودہ زمانہ میں آزادی اور جمہوریت اور سیکولرزم کے نظریہ کے تحت ہر قوم اور ہر فرقہ کو دیا گیا ہے۔ صحیفہ مدینہ میں یہ بات اپنے الفاظ میں کہی گئی تھی۔ آج کے لوگ اس کو اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ شاہی نظام اور جمہوری نظام قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں خدائی بادشاہت (Divine right of kings) کا رولج تھا۔ صرف اس کی ظاہری شکلوں میں فرق تھا۔ کوئی اپنے آپ کو چاند دیوتا یا سورج دیوتا کی اولاد بتا کر حکومت کرتا تھا۔ (جیسے عراق اور مصر ) کسی کا دعویٰ تھا کہ وہ دنیا میں خدا کا سیاسی نمائندہ ہے اور یہ نمائندگی اس کو براہ راست خدا کی طرف سے ملی ہے، اس لئے کوئی اس کو منسوخ نہیں کر سکتا ( جیسے چین اور ایران) کوئی اپنے آپ کو خدائی منشاء کا مقدس نگراں بتا کر لامحدود حق حکومت حاصل کئے ہوئے تھا (جیسے روم) قدیم دور میں ساری دنیا کا یہی حال تھا۔ ہر ایک کسی نہ کسی پر اسرار عقیدہ کے تحت خدائی حکمرانی کا مالک بنا ہوا تھا۔ اس طرز حکومت کے نتیجہ میں ساری دنیا میں مذہبی جبر وجود میں آیا۔ ان بادشاہوں نے اپنی حاکمیت کے تحفظ کے لئے اپنے مخصوص مذہب کے سوا ہر مذہب پر پابندی لگا رکھی تھی۔ ایک بادشاہ جس نے پر اسرار طور پر اپنا رشتہ خدا یا دیوتا سے جوڑ کر اپنے آپ کو عوام کی نظر میں مقدس بنا رکھا ہو، وہ کبھی اس دعوت کو برداشت نہیں کر سکتا کہ خدا ایک ہے ، اس کے سوا سب مخلوق ہیں اور سب یکساں درجہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کی دعوت کی دعوت کی نہ براہ راست اس کے حق حکمرانی پر پڑتی ہے، وہ اس کے حکومت کرنے کے حق کو بے بنیاد ثابت کر رہی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page