اسلامی دور
Urdu book, p. 363
By Maulana Wahiduddin Khan
اس ماحول میں اسلام نے خالص توحید کا نظریہ پیش کیا۔ یعنی یہ کہ خدا ایک اور صرف ایک ہے۔ اس کے سوا کسی کو کسی بھی اعتبار سے خدائی کا درجہ حاصل نہیں۔ اسلام کی یہ فکری تحریک یہاں تک کامیاب ہوئی کہ ساری دنیا میں شرک کی جڑ اکھڑ گئی۔ اسی کے ساتھ اسلام نے ”شور مئی“ کا تصور پیش کیا۔ یعنی حکمران کے تقرر کا اختیار عوام کو ہے نہ کہ کسی پر اسرار عقیدہ کو۔ یہاں بھی اسلام کو زبردست کامیابی ہوئی۔ اسلام کا شور مئی کا تصور صرف ایک تصور نہ رہا، بلکہ پیغمبر اور آپ کے خلفاء نے اس کو زمین کے ایک بڑے رقبہ میں عملاً قائم کرکے دکھا دیا۔ بعد کے دور میں اگر چہ یہ تصور نشیب و فراز کے مراحل سے دوچار رہا۔ مگر فکری سیلاب کے طور پر اس کا دھار اتاریخ میں بہتر رہا۔ یہاں تک کہ یورپ میں پہنچ کر اس نے جدید جمہوریت (Democracy) کی شکل اختیار کی۔ جمہوریت اسلام کے شورائی نظریہ کی مغربی صورت ہے اور سیکولرزم اسی جدید سیاسی انقلاب کا ایک ضمنی نتیجہ۔ دور کی تبدیلی موجودہ مسلمان اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے ”سیکولرزم“ کا صرف ایک رخ دیکھ پاتے ہیں۔ وہ اب تک سیکولرزم کا دوسرا رخ دیکھنے والے نہ بن سکے۔ سیکولرزم کا مطلب اصلا یہ ہے کہ ریاست مذہب کے معاملہ میں نا طرف دار رہے۔ یہ ایک نہایت دور رس فکری انقلاب ہے جو عین مذہب اسلام کے حق میں ہے۔ قدیم زمانہ میں ریاست مذہب کے معاملہ میں نا طرف دار رہنے کی پابند نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں ہر مذہب والے کو دوسرے مذہب سے ظالمانہ سلوک کا تجر بہ ہوتا تھا۔ برہمنوں کا بدھوں پر ظلم، یہودیوں کا عیسائیوں پر ظلم، عیسائیوں کا یہودیوں پر ظلم، کسی مذہب کے ایک فرقہ کا دوسرے فرقہ پر ظلم۔ اس قسم کے ظالمانہ واقعات سے مذہب کی قدیم تاریخ بھری ہوئی ہے۔ اسی طرح دین توحید کے علم برداروں کو دین شرک کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کوئی داعی توحید آگ میں ڈال دیا گیا، کسی کو آرے سے چیر دیا گیا۔ مگر جدید فکری انقلاب جو در حقیقت اسلامی انقلاب ہی کا ایک نتیجہ ہے، اس نے ریاست کو منتقل طور پر اس کا پابند کر دیا کہ وہ مذہب کے معاملہ میں ہمیشہ غیر جانبدار رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader