Urdu book · دین کامل

اسلامی دور

Urdu book, p. 364

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ اصول اقوام متحدہ کے ذریعہ اب عالمی طور پر ایک تسلیم شدہ اصول بن چکا ہے۔ ۱۰ نومبر ۱۹۴۸ء کو تقریباً متفقہ طور پر انسانی حقوق کا عالمی منشور (Universal Declaration of Human Rights) منظور کیا گیا۔ اس کی دفعہ ۱۸ (نیز دفعہ ۱۹-۲۰) کے مطابق، ہر شخص کو یہ حق ہے کہ وہ جو مذہب چاہے رکھے ۔ اس حق میں مذہب کو تبدیل کرنے کی آنہ آدمی بھی شامل ہے۔ ہر آدمی کو حق ہے کہ وہ علانیہ طور پر اپنے مذہب پر عمل کرے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی حق ہے کہ اپنے عقیدہ کو دوسروں کے سامنے بیان کرے اور اس کے لئے تمام تر امن پر امن ذرائع کو استعمال کرے۔ اس آزادی کا ایک پہلو یہ ہے کہ ایک شخص کو لامت مذہب یا منکر مذہب رویہ اختیار کرنے کی آزادی بھی حاصل ہے۔ مگر اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک شخص کو یہ موقع حاصل ہو گیا کہ وہ جب کسی مذہب کو اختیار کرے یا کسی مذہب کی تبلیغ کرے تو کوئی اس کی راہ میں حائل نہ ہو سکے۔ یہ دوسرا فائدہ دراصل اسی سیکولرزم کے نتیجہ میں تاریخ میں پہلی بار حاصل ہوا ہے۔ یہ آزادی اسلام کے حق میں عظیم الشان کامیابی ہے۔ یہ مقابلہ کے میدان کو تبدیل کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ مذاہب کے باہمی مقابلہ کو طاقت کے میدان سے نکال کر فکر کے میدان میں لاتی ہے جہاں اسلام یقینی طور پر دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں زیادہ برتر حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مقابلہ کو اس میدان میں لانا ہے جہاں اسلام مادی طاقت کے بغیر فتح حاصل کر سکے۔ قرآن میں یہ ذہن دیا گیا ہے کہ اہل ایمان عصر میں یُسَر کو دیکھیں ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ یُسَر میں بھی يُسر کو دیکھنے سے عاجز ہو رہے ہیں۔ ابدی فتح مبین پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اور غیر اہل اسلام کے درمیان مسلسل ٹکراؤ اور جنگ کی حالت قائم تھی۔ آغاز نبوت کے تقریباً ۲۰ سال بعد دونوں فریقوں کے درمیان وہ معاہدہ ہوا جس کو عام طور پر صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ اس صلح کو قرآن میں فتح مبین (الفتح ۱) کہا گیا ہے۔ صلح حدیبیہ کیوں فتح مبین تھی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حالت جنگ میں آدمی کی رہنمامد اور عصبیت کے جذبات ہوتے ہیں۔ اور جب دونوں فریقوں کے درمیان امن اور اعتدال کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page