Urdu book · دین کامل

اسلامی دور

Urdu book, p. 365

By Maulana Wahiduddin Khan

فضا قائم ہو جائے تو دلیل اور معقولیت کو غلبہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اسلام چوں کہ دین فطرت ہے، وہ کامل اور مکمل سچائی ہے۔ اس لئے ٹکر اؤ اور جنگ کی فضا اس کے مفاد کے سراسر خلاف ہے۔ ٹکراؤ اور جنگ کی فضا میں لوگوں کی نگاہوں پر ضد اور عصبیت کا پردہ پڑا رہتا ہے۔ اس لئے وہ اسلام کی خو بیوں کو محسوس نہیں کر پاتے ۔ حتیٰ کہ اگر محسوس کرلیں تو ضد کی وجہ سے اس کا اعتراف نہیں کرتے۔ لیکن اگر کسی طرح دونوں فریقوں کے درمیان اعتدال کی فضا قائم ہو جائے تو اسلام کی کشش اپنے آپ لوگوں کو متاثر کرنے لگے۔ اسلام کے دلائل سیدھے فطرت میں داخل ہو کر انسان کو مجبور کریں گے کہ وہ اس کا اعتراف کرے، وہ اس کے سامنے جھک جائے۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ چیزوں کو ظاہری صورت (Face value) پر نہ لیا جائے، بلکہ ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے انہیں دیکھا جائے۔ اس کی ایک مثال خود صلح حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ مشرکین نے بطور خود اس صلح کی دفعات یہ سمجھ کر مقرر کی تھیں کہ وہ مسلمانوں کے اوپر بالا دستی حاصل کر رہے ہیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ظاہری دفعات کے اعتبار سے نہیں دیکھا۔ بلکہ اس کی اصل حقیقت کے اعتبار سے اس پر غور کیا۔ ظاہری دفعات کے اعتبار سے یہ صلح فریق ثانی کے حق میں تھی ، مگر اس کا ایک پہلو ایسا تھا جو اس کو یقینی طور پر اہل ایمان کے حق میں لے جا رہا تھا۔ وہ یہ کہ اس صلح کے ذریعہ اسلام اور غیر اسلامی اقتدار کے درمیان مقابلہ کا میدان بدل رہا تھا۔ اب تک دونوں کے درمیان جو مقابلہ تھا وہ جنگ کے میدان میں تھا۔ اس میدان میں باعتبار اسباب، فریق ثانی کو بالاتری حاصل تھی، مگر اس صلح کے بعد دونوں کے درمیان نیا میدانِ مقابلہ فکر اور نظریہ بننے والا تھا۔ اور فکر اور نظریہ کے میدان میں یقینی طور پر توحید کو شرک کے اوپر بالا تری حاصل تھی۔ اسی پیغمبرانہ نظر سے ہمیں سیکولرزم کو دیکھنا چاہئے۔ یہاں بھی فریق ثانی نے بطور خود اس اصول کو اس لئے قائم کر رکھا ہے کہ وہ مذہب کی مداخلت سے آزاد رہ کر اپنے تمدنی منصوبوں کو بروئے کار لاسکے۔ مگر اسی کے اندر ایک اور چیز بر آمد ہو رہی ہے جو عین ہمارے حق میں ہے، وہ یہ کہ فریق ثانی سے ہمارا مقابلہ طاقت کے میدان میں نہ ہو کر فکر کے میدان میں ہونے لگے۔ گہرائی کے ساتھ غور کیجئے، تو موجودہ سیکولرزم، ایک اعتبار سے ابدی صلح حدیبیہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page