اخلاق
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا سے پانے کے لیے اسلامی اخلاق کا نہایت گہرا تعلق خدا کی معرفت سے ہے۔ جب ایک شخص حقیقی معنوں میں، خدا کو دریافت کرتا ہے تو اس پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ اس دنیا میں وہ آزاد نہیں ہے کہ جو چاہے کرے ۔ وہ یہاں حالت امتحان میں ہے۔ خدا نے اس کو محدود مدت کے لیے یہاں رکھا ہے۔ اس کے بعد اس پر موت طاری کرکے وہ اس کو اپنے یہاں بلائے گا۔ اور اس کے عمل کے مطابق اس کو یا جنت کے باغوں میں بسائے گا یا جہنم کی آگ میں ڈال دے گا ۔ جب آدمی پر زندگی کی یہ حقیقت کھلتی ہے تو اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ بن جاتا ہے کہ وہ موت کے بعد آنے والی زندگی میں اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے بچائے ۔ وہ آخرت میں خدا کی رحمت اور معافی حاصل کر سکے ۔ اس کا یہ مزاج اس کی زندگی میں اس طرح داخل ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے حد درجہ نرم اور مہربان بن جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو معاف کرتا ہے تاکہ خدا اس کو معاف کرے ۔ وہ لوگوں کے ساتھ وسعت ظرف کا معاملہ کرتا ہے تاکہ خدا اس کے ساتھ وسعت اور رحمت کا معاملہ فرمائے ۔ اس مومنانہ سلوک کو حدیث میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں ہم اس سلسلہ میں چند حدیثیں نقل کرتے ہیں : اِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءِ بے شک اللہ اپنے بندوں میں سے مہربان بندوں پر مہربانی کرتا ہے ( الجامع الصغیر ) اِسْمَحُوْا يُسْتَمْحُ لَکُمْ تم لوگوں سے درگزر کرو، تمہارے ساتھ بھی درگزر کیا جائے گا ۔ ( الجامع الصغیر ) اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْکُمْ مَّنْ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تمہارے اوپر رحم کرے گا فِي السَّمَاءِ ( الجامع الصغیر ) مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمْ (متفق علیہ) جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا حضرت ابو ہریرہ سے ایک لمبی حدیث مروی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader