Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ۔ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِماً سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ۔ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ (صحيح مسلم) عَنْ جَرِيرِ بنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لاَ يَرْحَمُ النَّاسَ جو شخص ایک مومن کی دنیا کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت کو دور کرے گا تو اللہ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت کو دور کرے گا۔ جو شخص ایک تنگ دست کو آسانی دے گا تو اللہ دنیا اور آخرت میں اس کو آسانی دے گا۔ جو شخص ایک مسلم کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ اور اللہ بندہ کی مدد پر رہتا ہے جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی مدد پر رہے۔ حضرت جریر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس شخص پر رحم نہ کرے گا جو لوگوں پر رحم نہ کرے۔ (متفق علیہ) اعلٰی ظرفی ایک شخص نے ٹیکسی کرایہ پر لی۔ جب وہ سفر پورا کر کے اترا تو ٹیکسی والے نے پچاس روپیہ کرایہ بتایا۔ اب اگر مسافر کی جیب میں صرف پچاس روپے ہوں تو وہ ٹیکسی والے سے جھگڑا کرے گا۔ کیونکہ وہ ڈرے گا کہ اس کو دے کر میں خالی ہو جاؤں گا۔ اس کے بعد میرے پاس کچھ نہیں رہے گا۔ وہ ٹیکسی والے سے کہے گا کہ تم نے کرایہ زیادہ بتایا ہے۔ مگر جس شخص کے بیگ میں پچاس ہزار روپیہ کے نوٹوں کے بنڈل بھرے ہوئے ہوں وہ کبھی پچاس روپے کے لیے جھگڑا نہیں کر سکتا۔ وہ فوراً ٹیکسی والے کو

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو شخص بڑے چیز پائے ہوئے ہو وہ کبھی چھوٹی چیز کے یہ جبڑا انہیں کرتا۔ کم ظرفی چھوٹی یافت کا نتیجہ ہے اور عالی ظرفی بڑی یافت کا نتیجہ۔ خدا بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔ وہ تمام خوبیوں اور کمالات کا خزانہ ہے۔ جو شخص

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page