Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

بِأَفْضَلِ أَخْلَاقِ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَة لوگوں کا بہترین اخلاق نہ بتاؤں ۔ کہا کہ ہاں ۔ قَالَ نَعَمْ ـ قَالَ تَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ وَ فرمایا کہ جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو۔ جو تم کو محروم تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ وَتَعْفُو عَمَّنْ کرے تم اسے دو۔ اور جو شخص تم پر ظلم کرے ظَلَمَكَ (البيهقی) اس کو تم معاف کر دو ۔ اِس لیے مذکورہ آیت ( اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ) کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ اس سے مراد خدا کے اُس حکم پر قائم ہونا ہے جو دوسرے مقام پر ان الفاظ میں آیا ہے : عفو و درگزر کا طریقہ اختیار کرو اور معروف کی تلقین کرو اور جاہلوں سے اعراض کرو ( قیل هو ما امره الله تعالی به في قوله : خذ العفو وأمر بالعرف واعرض عن الجاهلين ، تفسیر نسفی جلد ۳ ، صفحه ۷۹ ، ۲ ) یعنی جہاں لوگ دوسروں سے بدلہ لیتے ہیں وہاں تم دوسروں کو معاف کر دو۔ جہاں لوگ دوسروں کے درمیان برائی پھیلانے ہیں وہاں تم نیکی پھیلاؤ ۔ جہاں لوگ دوسروں سے الجھ جاتے ہیں وہاں تم نظر انداز کر کے گزر جاؤ۔ اخلاق کی دو قسمیں اسلامی نقطہ نظر سے اخلاق کی دو قسمیں ہیں۔ پست اخلاق اور اعلیٰ اخلاق۔ پست اخلاق کا کوئی مستقل اصول نہیں ہوتا جس کا ہمیشہ لحاظ کیا جائے ۔ وہ حالات کے لحاظ سے بنتا ہے اسی لیے وہ کبھی کچھ ہوتا ہے اور کبھی کچھ ۔ جس موقع پر جس قسم کے جذبات آدمی کے اندر ابھرے وہی اخلاق اور کردار کی صورت میں ڈھل گئے ۔ کسی کو اپنے سے کم دیکھا تو اس کو حقیر سمجھ لیا اور کسی کو اپنے سے زیادہ پایا تو اس کے خلاف حسد کرنے لگے ۔ کسی سے فائدہ نظر آیا تو اس کے دوست بن گئے اور کسی کو دیکھا کہ اس سے اپنا کوئی فائدہ وابستہ نہیں ہے تو اس سے بے رخی اختیار کرلی ۔ کسی نے اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے اچھے بن گئے ۔ اور کسی نے برا سلوک کیا تو اس کے ساتھ برائی کرنا شروع کر دیا۔ اتفاق سے کوئی بڑی حیثیت حاصل ہوگئی تو گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے اور اگر کوئی بڑی حیثیت نہیں ملی تو مایوسی کا شکار ہوگئے ۔ کسی سے خوش ہوگئے تو اس کے ساتھ فیاضی کرنے لگے اور اگر کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page