Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

سے ناخوش ہوے تو اس کے لیے اپنے دروازے بند کرلیے ۔ کسی کو اپنے موافق پایا تو اس کی تعریف کرنے لگے اور اگر کسی سے ناموافقت ہوگئی تو سمجھ لیا کہ اس سے زیادہ برا کوئی آدمی نہیں ۔ یہ سب پست اخلاق کے طریقے ہیں ۔ اور مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ پست طریقے سے بچے اور اعلیٰ اخلاقی طریقے اختیار کرے ۔ اخلاق کی بلندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اعلیٰ اخلاق پر قائم تھے اور آپ کا یہی مشن تھا کہ لوگوں کو اعلیٰ اخلاق اختیار کرنے کی تلقین کریں ۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے ارشاد فرمایا : عَنْ مَالِكَ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ حضرت امام مالک کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہونچی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بُعِثْتُ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ لیے بھیجا گیا ہوں کہ حسن اخلاق کی تکمیل کروں ( موطا الامام مالک ) یہ روایت مختلف طریقوں سے آئی ہے ۔ کسی میں حسن الاخلاق کا لفظ ہے ، کسی میں صالح الاخلاق اور کسی میں مکارم الاخلاق کا ۔ وہ مکارم اخلاق کیا ہیں جن کی دعوت اور اقامت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے ۔ اس کی وضاحت دوسری روایت سے ہوتی ہے : ثَلَاثَةٌ مِنْ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ عِنْدَ اللَّهِ تین چیزیں اللہ کے نزدیک اعلیٰ اخلاق سے ہیں ۔ أَنْ تَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَكَ وَتُعْطِيَ مَنْ یہ کہ جو شخص تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو ۔ حَرَمَكَ وَتَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ اور جو شخص تم کو محروم کرے تم اس کو دو ۔ اور جو شخص تم سے کٹے تم اس سے جُڑو ۔ ( الجامع الصغیر ، للسيوطي ) گویا اعلیٰ اخلاق وہ ہے جس میں آدمی فریق ثانی کی روش سے بلند ہوکر اس سے معاملہ کرے ۔ وہ فریق ثانی کے رویہ سے متاثر ہوئے بغیر اس سے اچھی طرح پیش آئے ۔ اس کا اخلاق مثبت اخلاق ہو نہ کہ جوابی اخلاق ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page