اخلاق
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
قدرت کے باوجود سب سے زیادہ سخت امتحان آدمی کا اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے مخالف پر قابو پا جائے ۔ جب اس کا دشمن پوری طرح اس کی گرفت میں آ چکا ہو۔ ایسے موقع پر آدمی اپنی ساری طاقت استعمال کرکے اپنے مخالف کو پیس ڈالتا ہے ۔ ایسے دشمن کے معاملہ میں آدمی اپنی کوئی اخلاقی ذمہ داری نہیں سمجھتا جو پوری طرح اس کے قبضہ میں آ چکا ہو ۔ مگر اللہ سے ڈرنے والے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس وقت بھی خدا اس کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا ہے۔ خدا کی طاقت کا احساس اس کے ذہن پر اس طرح چھاتا ہے کہ انسان کی کمزوری اسے بھول جاتی ہے ۔ وہ اپنے دشمن کو معاف کر دیتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ یہی وہ موقع ہے جب کہ وہ اپنے دشمن کو معاف کرکے اپنے آپ کو عبدیت کے بلند ترین مرتبہ پر پہنچا سکتا ہے ۔ حدیث کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : عَنۡ اَبِیۡ ھُرَیۡرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوۡلُ اللّٰہِ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ قَالَ مُوۡسٰی بۡنُ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ عِمۡرَانَ عَلَیۡہِ السَّلَامِ یَارَبِّ مَنۡ اَعَزُّ سے کہا کہ اے میرے رب ، تیرے بندوں میں تیرے عِبَادِکَ عِنۡدَکَ ۔ قَالَ مَنۡ اِذَا قَدَرَ نزدیک سب سے زیادہ معزز بندہ کون ہے ۔ اللہ غَفَرَ (البیہقی) نے فرمایا، وہ شخص جو قدرت پانے کے بعد معاف کردے ۔ غصہ نہیں جو چیز اخلاق کی سب سے بڑی قاتل ہے وہ غصہ ہے ۔ عام حالات میں اکثر لوگ صحیح رہتے ہیں ۔ مگر جب ایک آدمی کو کسی بات پر غصہ آجاتے تو اس کے بعد وہ قابو سے باہر ہو جاتا ہے ۔ اس وقت وہ بھول جاتا ہے کہ کوئی اخلاقی اصول ہے جس کو اسے ہر حال میں برتنا چاہیے ۔ اس دنیا میں صرف ایک ہی چیز ہے جو غصہ اور اشتعال کی حالت میں آدمی کو حد کے اندر رکھ سکتی ہے ۔ اور وہ خدا کا خوف ہے ۔ اگر آدمی کے دل میں واقعۃً خدا کی عظمت بیٹھ جائے اور وہ جان لے کہ خدا اس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لے گا تو یہ احساس اس کے اوپر ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader