Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

قسم کی لگام لگا دیتا ہے ۔ خدا کا ڈر اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک حد سے آگے نہ جانے دے۔ اسی لیے قرآن میں خدا کے مومنین کی صفت یہ بتائی گئی ہے : وَإِذَا مَا غَضِبُوَا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوری) جب انھیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں خدا سے ڈرنے والوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ انھیں جب انسانوں کی طرف سے غصہ آتا ہے تو خدا کا تصور سامنے آکر ان کے غصہ کو باد دیتا ہے ۔ وہ انسان کے رویہ سے مشتعل ہوتے ہیں مگر خدا کی پکڑ کا اندیشہ انھیں ٹھنڈا کر دیتا ہے ۔ غصہ کے سلسلے میں چند حدیثیں یہ ہیں : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِي حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصِنِيْ فَقَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے نصیحت لَا تَغْضَبْ - فَرَدَّ ذَلِكَ مِرَاراً قَالَ کیجیے ۔ آپ نے فرمایا غصہ نہ کر ۔ آدمی نے بار بار لَا تَغْضَبْ (صحیح بخاری) پوچھا۔ آپ نے ہر بار فرمایا کہ غصہ نہ کر ۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الشَّدِيدُ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں ہے جو حریف بِالصَّرْعَةِ - إِنَّمَا الشَّدِيدُ مَنْ کو پچھاڑ دے۔ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے ۔ (صحیح مسلم) إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اس (الجامع الصغیر) کو چاہیے کہ وہ چپ ہو جائے ۔ غصہ دراصل ردعمل کا دوسرا نام ہے ۔ ان آیتوں اور حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کا طریقہ رد عمل کا طریقہ نہیں ہوتا۔ مومن کو کسی کے خلاف غصہ آتا ہے تو اس کے جواب میں وہ اس کو معافی لوٹاتا ہے ۔ وہ منفی نفسیات سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرتا ہے ۔ وہ غصہ اور تلخی کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ اندر ہی اندر اس کو پی جاتا ہے ۔ مومن اس دنیا میں پھول کی طرح رہتا ہے ۔ اس کو بُرا کہیں تب بھی وہ برا کہنے والے کو خوشبو دے گا۔ اس کو پتھر ماریں تب بھی اس کا سکون بھنگ نہیں ہوگا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page