اخلاق
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
غلطی ہو جانے کے بعد انسان خواہ کتنا ہی اچھا ہو، دوسروں کے درمیان رہتے ہوئے بار بار اس سے غلطیاں ہوتی ہیں ۔ بار بار لوگوں کے حقوق کے ادا کرنے میں کوتاہی ہو جاتی ہے ۔ ایسے موقع کے لیے یہ اخلاق بتایا گیا ہے کہ جب کوئی بُرائی ہو جائے تو فوراً بھلائی کرو۔ اس سے تمہاری بُرائی کا اثر دھل کر ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے : اِتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَاتَّبِعْ تم جہاں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور جب السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِقِ بُرائی ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کر لو، وہ اس النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ کو مٹا دے گی ۔ اور لوگوں کے درمیان اچھے (الجامع الصغیر) اخلاق کے ساتھ رہو۔ برائی کے بعد اچھائی کرنے کی مختلف صورتیں ہیں ۔ مثلاً جس کے ساتھ برائی ہوئی ہے اس سے معافی مانگنا۔ اس کے حق میں خدا سے اچھی دعائیں کرنا۔ اس کو ہدیہ دینا۔ اس کا ذکر لوگوں کے درمیان اچھے الفاظ سے کرنا۔ مختلف مواقع پر اس کی خیر خواہی کرنا۔ وغیرہ جنت والے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں کوئی لغو بات یا گناہ کی بات نہ سنائی دے گی (واقعہ ۲۶) معلوم ہوا کہ جنت کا ماحول اعلیٰ اخلاق کا ماحول ہو گا ۔ وہاں جھوٹ ، تہمت ، غیبت ، بے ہودگی ، گالی ، طنز و تمسخر اور فضول باتیں نہیں ہوں گی ۔ وہاں ہر ایک کے دل میں دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبات ہوں گے ۔ وہاں ہر ایک وہی بولے گا جو اسے بولنا چاہیے اور وہ نہیں بولے گا جو اسے نہیں بولنا چاہیے ۔ جنت بد اخلاق لوگوں کی سوسائٹی نہ ہوگی ۔ جنت شریف انسانوں کا معاشرہ ہو گا ۔ دنیا میں اچھے اخلاق والا بننا در اصل اسی جنتی سماج کا امیدوار بننا ہے ۔ جو شخص دنیا میں جنتی اخلاق کا ثبوت دے وہی آئندہ جنت کے ماحول میں بسایا جائے گا۔ باقی تمام لوگ رد کر کے جہنم کے کوڑا خانہ میں ڈال دیئے جائیں گے تاکہ ہمیشہ کے لیے اپنی بدکرداری کی سزا بھگتے رہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader