اخلاق
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
حصہ دوم اخلاق ایک طاقت ہے ۔ بلکہ اخلاق سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایک اچھا سلوک دشمن کو دوست بنا سکتا ہے ۔ ایک میٹھا بول ایک سرکش آدمی سے اس کی سرکشی چھین سکتا ہے ۔ ایک ہمدردانہ برتاؤ ایک ایسے جھگڑے کو ختم کر سکتا ہے جس کو ختم کرنے کے لیے لاٹھی اور گولی کی طاقت ناکام ہو چکی تھی ۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بتائی گئی ہے : لَا تَسۡتَوِي الۡحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ؕ اِدۡفَعۡ اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی۔ تم جواب بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَکَ وَ میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے بَيۡنَہٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ ؕ کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا (حم السجدہ) ہے جیسے کوئی دوست قرابت والا ۔ اسلام میں تالیف قلب کا اصول بھی اخلاق سے تعلق رکھتا ہے ۔ قرآن میں زکوٰۃ کی رقم کی کئی مدیں بتائی گئی ہیں ۔ ان میں سے ایک خاص مد تالیف قلب (التوبہ) کی ہے ۔ اس مد کے تحت ان لوگوں کی مالی اعانت کی جاتی ہے جن کے دل کو اسلام کے لیے نرم کرنا مطلوب ہو۔ اس اصول کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے متعدد سرکش سرداروں کو رقمیں دیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بعد وہ لوگ بالکل ٹھنڈے پڑگئیے۔ اسلام کی یہ تعلیم اس بات کی ایک کھلی ہوئی تصدیق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اخلاق کے اندر زبردست تسخیری طاقت رکھی ہے ۔ اخلاق ایک طاقت ہے ، اس کی مثالوں سے انسانی تاریخ بھری ہوئی ہے۔ جس شخص یا قوم نے بھی اس دنیا میں کوئی کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس کی گہرائی میں جاکر دیکھیں تو اس کے پیچھے اخلاق کی طاقت کام کرتی ہوئی نظر آئے گی ۔ یہاں ہم اسلام کی تاریخ سے چند مثالیں پیش کریں گے ۔ دشمن دوست بن گیا انھیں میں سے ایک مثال صفوان بن امیہ بن خلف کی ہے ۔ وہ قریش کے بڑے سرداروں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader