Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

میں سے تھے ۔ ان کا خاندان مکہ کا ایک ممتاز خاندان تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد یہ خاندان آپ کا زبر دست مخالف ہو گیا ۔ صفوان کے والد امیہ بن خلف جنگ بدر میں آپ کے مخالف لشکر میں شامل تھے ۔ وہ آپ کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے ۔ جب مکہ فتح ہوا تو صفوان بن امیہ مکہ سے باہر نکل گئے اور بھاگ کر جدہ پہونچ گئے ۔ ان کے چچزاد بھائی عمیر بن وہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لیے امان کی درخواست کی۔ آپ نے ان کو امان دیدی ۔ مزید یہ کہ آپ نے اپنی چادر بھی ان کو علامت امان کے طور پر عطا فرمائی ۔ عمیر بن وہب جدہ گیے اور صفوان کو چادر دی اور امان کی خبر بتائی ۔ صفوان ان کے ساتھ مکہ واپس آئے ۔ صفوان بن امیہ مکہ واپس آگئے مگر ابھی انھوں نے اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھ کو سوچنے کے لیے دو مہینے کی مہلت دیجیے ۔ آپ نے فرمایا کہ تم کو چار مہینے کی مہلت ہے ۔ اس کے جلد ہی بعد ہوازن کی جنگ میں کافی مال غنیمت ملا ۔ آپ نے اس میں سے صفوان کو ایک سو اونٹ دیئے ۔ اس کے بعد بھی آپ ان پر اخلاقی مہربانی کرتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ صفوان بن امیہ خود اپنے بارہ میں کہتے ہیں : لَقَدْ اَعْطَانِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطیہ دیا جب وَاِنَّهُ لَاَبْغَضُ النَّاسِ اِلَيَّ فَمَا زَالَ کہ وہ میرے لیے سب سے زیادہ مبغوض شخص تھے يُعْطِيْنِي حَتَّى اِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ مگر وہ مجھے دیتے رہے ۔ یہاں تک کہ وہ میرے لیے اِلَيَّ (تفسیر طبری) سب سے زیادہ محبوب شخص بن گئے ۔ اس مثال میں واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ صرف اخلاق نے ایک کٹر دشمن کو قریبی دوست بنا دیا۔ ایک شخص جس کو مادی طاقت نہیں جھکا سکی تھی اس کو اخلاقی طاقت نے جھکا دیا۔ قلعہ کے دروازے کھل گئے مکہ ششہ میں فتح ہوا ۔ اس کے بعد دو بڑی بستیوں کا مسئلہ باقی تھا ۔ ایک حنین ، اور دوسرے طائف ۔ ان دونوں بستیوں میں ہو ازن اور ثقیف نامی قبیلے آباد تھے جو ایک دوسرے کے حلیف تھے ۔ حنین والوں کو اپنی جنگی قابلیت پر بہت ناز تھا۔ چنانچہ انھوں نے مکہ کی فتح کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page